بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1440ھ- 23 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

والد کا بیٹے کی طرف سے قربانی میں حصہ ڈالنا


سوال

میں خود جاب کرکے روپے کماتا ہوں، اس سال زکات بھی دی تھی، اب قربانی ہر سال والد صاحب میری طرف سے کرتے ہیں(گائے کا ایک حصہ) تو وہ کافی ہے یا میں الگ سے کروں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ پر قربانی واجب ہے اور آپ کے والد صاحب آپ کی اجازت سے گائے میں ایک حصہ آپ کی واجب قربانی کاشامل کرتے ہیں تو یہ جائز ہے، اس سے آپ کی قربانی ادا ہوجائے گی، الگ سے قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور اگر آپ پر قربانی واجب نہ ہو (یعنی عید الاضحٰی کے تین دنوں میں ضرورت سے زائد نصاب کے برابر مال یا سامان ملکیت میں موجود نہ ہو) تو  تب والد کا آپ کی طرف سے نفل قربانی کرنے کا ثواب آپ کو مل جائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201197

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے