بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

والد سے کہا کہ اگرآپ اکیلے اس شہرسے باہر گئے تو میری بیوی طلاق ہوگی


سوال

میرے  والد صاحب کافی معمر ہوچکےہیں، قریباً  70 سال عمر ہوگئی، بدقسمتی سے گھر کے معاشی حالات کچھ ٹھیک نہیں، تاہم اللہ کا شکر ہے بھائی حسبِ توفیق محنت مزدوری کرکے گزارا چلارہے ہیں،لیکن والد صاحب کو کچھ زیادہ فکر ہوتی ہے، جس کے پیشِ نظر کبھی کبھار وہ اکیلے گھر سےچلے جاتے ہیں اور لوگوں سے مانگنے کی عادت پڑ گئی ہے۔اس فعلِ شنیع پر کئی بار انہیں منع بھی کیا، لیکن بڑے ہونے کی وجہ سے ہماری بات ان پر کوئی اثر نہیں کرتی تھی، مجبور ہوکر ایک دن میں نے انہیں کہا کہ اگرآپ اکیلے اس شہر(کمیلا ) سے باہر گئے تو میری بیوی طلاق ہوگی،اس دن وہ عام عوام کے ساتھ ( گاڑی)میں سوار ہوکر دوسرے شہر میں ایک جگہ تعزیت کے لیے گئے تھے تو کیا طلاق واقع ہوگئی یا نہیں ؟

نوٹ: میرا مقصد اکیلے سفر نہ کرے یعنی کوئی عزیز ساتھ لے کر سفر کرے؛ کیوں کہ ایسے افعالِ قبیح اکثر خلوت میں ہواکرتے ہیں،تاہم میں نے کسی عزیز ،رشتہ دارکو ساتھ لے کر جانے کی تصریح اور تلفظ نہیں کیا تھا، صرف یہ کہا تھا "آپ اکیلے اس شہرسے باہر نہ جائیں۔"

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے، دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہے، زبان سے رجوع کے الفاظ کہنے سے بھی رجوع ہوسکتاہے، اور میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنے سے بھی رجوع ہوجائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 784)

'' مطلب: نية تخصيص العام تصح ديانةً، لا قضاءً خلافاً للخصاف۔

(قوله: نية تخصيص العام تصح ديانةً لا قضاءً) هذه الجملة بمنزلة التعليل ؛ لقوله قبله: ولو ضم طعاماً أو شراباً أو ثوباً دين، لما علمت من أنه إذا ضم ذلك يصير نكرةً في سياق الشرط فتعم، والعام تصح فيه نية التخصيص، لكن لا يصدقه القاضي ؛ لأنه خلاف الظاهر.

واعلم أن الفعل لا يعم ولا يتنوع، كما في تلخيص الجامع ؛ لأن العموم للأسماء لا للفعل هو المنقول عن سيبويه، كذا في شرحه للفارسي.

قلت: ويرد عليه ما مر من مسألة الخروج والمساكنة والشراء إلا أن يقال كما مر: إن التنوع هناك للفعل بواسطة مصدره لا أصالة، تأمل.

[تنبيه]

قيد بالنية ؛ لأن تخصيص العام بالعرف يصح ديانةً وقضاءً أيضاً، وأما الزيادة على اللفظ بالعرف فلا تصح، كما أوضحنا ذلك أول باب اليمين في الدخول والخروج''۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 782)

'' (قوله: إلا في ثلاث فيدين إلخ) يعني لو قال: إن خرجت فعبدي حر ونوى السفر مثلاً أو إن ساكنت فلاناً فعبدي حر، ونوى المساكنة في بيت واحد يدين؛ لأن الخروج في نفسه متنوع إلى سفر وغيره حتى اختلفت أحكامها، فقبلت إرادة أحد نوعيه، وكذا المساكنة متنوعة إلى كاملة هي المساكنة في بيت واحد ومطلقة وهي ما تكون في دار، فإرادة المساكنة في بيت إرادة أخص أنواعها كما في الفتح.

وحاصله: أن النية صحت هنا ؛ لكون المصدر متنوعاً لا باعتبار عمومه فهو تخصيص أحد نوعي الجنس، وزاد في تلخيص الجامع إن اشتريت ونوى الشراء لنفسه: أي فتصح نيته ديانةً، وإن لم يذكر المفعول ؛ لتنوع الشراء، فإنه تارةً يكون لنفسه، وتارةً يكون لموكله ، ولذا رتب على الأول الملك ، وعلى الثاني الملك للموكل ، وهذا بخلاف ما إذا نوى الخروج لبغداد أو المساكنة بالإجارة أو الشراء لعبد، فإن الفعل فيه غير متنوع، فلم يصح تخصيصه بالنية بدون ذكر كما في شرح التلخيص''. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200380

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے