بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے لیے عمر کی حد


سوال

شریعت کم عمری میں شادی کی اجازت دیتیہے یا اس کے لیےکوئی عمر کی حد ہے؟

جواب

نکاح کے لیے شرعاً   کوئی متعین مدت نہیں ہے،  بلکہ عمر کے کسی بھی حصے میں نکاح ہوسکتا ہے۔ البتہ بلوغت سے پہلے لڑکا یا لڑکی خود نکاح کا عقد نہیں کرسکتے، بلکہ ان کا ولی (والد یا دادا وغیرہ) ان کے مصالح کو مدنظر رکھ کر نکاح کرسکتاہے، صحیح احادیث کے مطابق ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چھ سال کی عمر میں ان کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ  کردیا تھا، اور نو سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہا کی رخصتی عمل میں آئی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200635

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے