بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے تو عدت کا حکم


سوال

منگنی کے نکاح کے بعد رخصتی سے قبل منگیتر کے انتقال کی صورت میں لڑکی پر شرعاً عدت لازم ہے کہ نہیں؟

جواب

منگنی نکاح کا وعدہ ہے، نکاح نہیں ہے، اس پر  نکاح کے اَحکام جاری نہیں ہوتے، لہذا اس کی عدت بھی نہیں ہے اور اگر باقاعدہ نکاح ہوگیا ہو،  لیکن صرف رخصتی نہ ہوئی ہو اور شوہر کا انتقال ہوجائے تو عورت پر چار مہینہ دس دن عدت گزارنا لازم ہوگا ۔

"وعدة المتوفی عنها زوجها إذا کانت غیر حامل وهي حرة أربعة أشهر وعشرًا، یستوي في ذٰلک الدخول وعدم الدخول والصغر والکبر". (الفتاویٰ التاتارخانیة ۵؍۲۲۸ رقم: ۷۷۲۵) فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200672

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے