بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نو زائیدہ بچہ یا بچی کے کان میں اذان و اقامت کہنے کے حکم میں کوئی فرق نہیں


سوال

نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان دینے کے بارے میں بعض علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ لڑکی کے دونوں کانوں میں اذان دینا چاہیے؛ کیوں کہ زنانہ پر باجماعت نماز نہیں تو اقامت نہیں کرنی چاہیے۔ براہِ  کرم اس بارے میں راہ نمائی فرمائیں!

جواب

نومولود کے دائیں کان میں اذان اوربائیں میں اقامت کہناسنت ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ بچے کوہاتھوں پراٹھاکرقبلہ رخ کھڑے ہوکردائیں کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی جائے اورحسب معمول ’’حی علی الصلاۃ‘‘ کہتے وقت دائیں طرف اور ’’حی علی الفلاح‘‘  کہتے وقت بائیں طرف منہ پھیراجائے۔  سوال میں ذکر کردہ فرق کا ثبوت کسی روایت سے ثابت نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201278

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے