بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نومولود کے کان میں موبائل سے اذان


سوال

نومولود بچے کے کان میں موبائل سے محفوظ شدہ اذان لگاسکتے  ہیں یا نہیں ؟

جواب

احادیث میں نومولود بچے کے کان میں اذان  دینے کا جو  حکم دیا گیا ہے وہ   آداب کے ساتھ اسی صورت میں  پورا ہوگا جب کہ براہِ راست  بچے کے کان میں اذان پڑھی جائے ، اگر کوئی اذان پڑھنے والا شخص نوزائیدہ بچے کے پاس نہ ہو  جو خود براہِ راست معہود طریقے پر اذان پڑھ دے  یا بچہ  شفا خانہ وغیرہ میں کسی ایسی جگہ پر ہو  کہ اس کے پاس اذان  پڑھنے کے لیے نہ جاسکتے ہوں تو مجبوری میں موبائل فون پر کال کرکے کان میں اذان واقامت پڑھ دی تو گنجائش ہوگی، اذان واقامت ہوجائے گی، موبائل میں محفوظ اذان  کا سنادینا کافی نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200755

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے