بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1440ھ- 15 نومبر 2018 ء

دارالافتاء

 

نماز میں موبائل کی اسکرین پر قرآن کھول کر دیکھنا


سوال

میں امریکہ میں رہتی ہوں، یہاں عورتیں تراویح کے لیے مسجد جاتی ہیں اور تراویح کی نماز کے دوران موبائل پر قرآن لگا کے دیکھتی رہتی ہیں، کیا حالت نماز میں یوں قرآن دیکھنا صحیح ہے؟

جواب

1۔ اولاً تو عورتوں کے لیے فرائض اور تراویح تمام نمازیں اپنے گھر میں ادا کرنے کا حکم ہے، خواتین کا مسجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔

2۔ نماز کی حالت میں موبائل میں قرآن پاک کھول کر (اس سے تلاوت کیے بغیر) اسے دیکھنا صحیح نہیں ہے، اگر دونوں ہاتھوں سے موبائل پکڑا یا ایک ہاتھ سے ایسے انداز میں پکڑا کہ دیکھنے والا یہ سمجھے کہ نماز میں نہیں ہے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ اور اگر امام یا انفرادی نماز ادا کرنے والا شخص موبائل وغیرہ میں قرآن مجید دیکھ کر نماز کے دوران پڑھے تو اس سے نماز فاسد ہوجائے گی۔

الفتاوى الهندية (1/ 101)

'ويفسدها قراءته من مصحف عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقالا: لا يفسد ، له إن حمل المصحف وتقليب الأوراق والنظر فيه عمل كثير وللصلاة عنه بد، وعلى هذا لو كان موضوعاً بين يديه على رحل وهو لا يحمل ولا يقلب أو قرأ المكتوب في المحراب لا تفسد، ولأن التلقن من المصحف تعلم ليس من أعمال الصلاة، وهذا يوجب التسوية بين المحمول وغيره فتفسد بكل حال، وهو الصحيح. هكذا في الكافي. ولو كان يحفظ القرآن وقرأه من مكتوب من غير حمل المصحف قالوا: لا تفسد صلاته؛ لعدم الأمرين، ولم يفصل في المختصر ولا في الجامع الصغير بين ما إذا قرأ قليلاً أو كثيراً من المصحف، وقال بعض المشايخ: إن قرأ مقدار آية تفسد صلاته وإلا فلا، وقال بعضهم: إن قرأ مقدار الفاتحة تفسد وإلا فلا. كذا في التبيين. ولو نظر إلى مكتوب هو قرآن وفهمه لا خلاف لأحد أنه يجوز. كذا في النهاية'۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200586


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں