بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نماز جنازہ کے بعد میت کے لیے دعا کا حکم


سوال

"إذا صلیتم علی المیت فأخلصوا له الدعاء". 

اس حدیث کے بارے میں وضاحت فرما دیں کہ نماز جنازہ کے بعد ہم لوگ اجتماعی دعا کیوں نہیں مانگتے ؟ بریلوی حضرات اس حدیث کو بطورِ دلیل پیش کرتےہیں. 

جواب

جنازہ کی نماز خود دعا ہے، اس میں میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ہی اصل ہے۔ جنازہ کی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا قرآن و سنت، صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں، لہذا اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ممنوع و بدعت ہے، البتہ اگر کوئی انفرادی طور پر ہاتھ اٹھائے بغیر دل دل میں دعا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ اگر جنازے کے بعد مستقل دعا ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ضرور اختیار کرتے. ملاعلی قاری رحمہ اللہ اور دیگر حنفی محققین نے اس کی تردید کی ہے. 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وَلَا يَدْعُو لِلْمَيِّتِ بَعْدَ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الزِّيَادَةَ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ" .  ( كتاب الجنازة، باب المشي بالجنازة و الصلاة عليها، ٣/ ١٢١٣)

خلاصة الفتاويمیں ہے:

"لايقوم بالدعاء في قراءة القرآن لأجل الميت بعد صلاة الجنازة". ( كتاب الصلاة، الفصل الخامس و العشرون في الجنائز، ١/ ٢٢٥، ط: رشيدية)

 سوال میں ذکر کردہ روایت کا تعلق نمازِ جنازہ  کے بعد مستقل دعا سے نہیں ہے، بلکہ نمازِ جنازہ میں میت کے لیے جو دعا مانگی جاتی ہے اسی کے حوالے سے تاکید ہے کہ میت کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ دعا کیا کرو۔

عون المعبود شرح سنن أبي  داؤد میں ہے:

"( فأخلصوا له الدعاء ) : قال ابن الملك : أي ادعوا له بالاعتقاد والإخلاص انتهى . قال المناوي : أي ادعوا له بإخلاص؛ لأن القصد بهذه الصلاة إنما هو الشفاعة للميت ، وإنما يرجى قبولها عند توفر الإخلاص والابتهال انتهى . وفي النيل : فيه دليل على [ ص: 383] أنه لايتعين دعاء مخصوص من هذه الأدعية الواردة، وأنه ينبغي للمصلي على الميت أن يخلص الدعاء له سواء كان محسناً أو مسيئاً، فلأن ملابس المعاصي أحوج الناس إلى دعاء إخوانه المسلمين وأفقرهم إلى شفاعتهم، ولذلك قدموه بين أيديهم وجاءوا به إليهم ، لا كما قال بعضهم: إن المصلي يلعن الفاسق ويقتصر في الملتبس على قوله: اللهم إن كان محسناً فزده إحساناً وإن كان مسيئاً فأنت أولى بالعفو عنه؛ فإن الأول من إخلاص السب لا من إخلاص الدعاء ، والثاني من باب التفويض باعتبار المسيء لا من باب الشفاعة والسؤال وهو تحصيل الحاصل، والميت غني عن ذلك . انتهى". ( باب الدعاء للميت، رقم الحديث: ٣١٩٩)

نيل الأوطارمیں ہے:

"فيه دليل على أنه لا يتعين دعاء مخصوص من هذه الأدعية الواردة..." ( ٤/ ٧٩)

الاستذكارمیں ہے:

"والدعاء للميت استغفار له ودعاء بما يحضر الداعي من القول الذي يرجو به الرحمة له والعفو عنه وليس فيه عند الجميع شيء مؤقت [يعني : محدد]" ( ٣/ ٣٨)

الإقناعمیں ہے:

"وقال " الحجاوي " رحمه الله : " ويدعو في الثالثة سراً بأحسن ما يحضره ولا توقيت فيه ويسن بالمأثور... "(١/ ٢٢٤) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200498

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے