بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جماعت کھڑی ہو تو انفرادی نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنا


سوال

جب جماعت تیار ہو، صفیں بن رہی ہوں اور کوئی شخص پچھلی صف میں سنتیں پڑھ رہا ہوتو کیا صف مکمل کرنے کے لیےاس کے آگے سے گزرا جاسکتا ہے؟

جواب

انفرادی نماز پڑھنے والے پر لازم ہے کہ اپنے آگے سترہ رکھ کر یا کسی ستون یا دیوار وغیرہ کے پیچھے نماز پڑھے، اگر اس نے یہ اہتمام نہیں کیا تو دیکھا جائے گا کہ اس کے آگے سے گزرے بغیر صفیں درست ہوسکتی ہیں، یا جو کام مقصود ہو وہ ہوسکتاہے تو کوشش کرے کہ اس کے آگے سے نہ گزرے۔  اور اگر اس کے آگے سے گزرے بغیر صف کی تکمیل نہ ہو یا جو کام مقصود ہے وہ نہ ہوسکے اور انتظار میں حرج ہو تو ان صورتوں میں اس کے آگے سے گزرنے کی صورت میں وہ انفرادی نماز پڑھنے والا گناہ گار ہوگا۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 570):
" وفي القنية: قام في آخر صف وبينه وبين الصفوف مواضع خالية فللداخل أن يمر بين يديه؛ ليصل الصفوف؛ لأنه أسقط حرمة نفسه؛ فلايأثم المار بين يديه، دل عليه ما في الفردوس عن ابن عباس عنه صلى الله عليه وسلم: «من نظر إلى فرجة في صف فليسدها بنفسه؛ فإن لم يفعل فمر مار فليتخط على رقبته فإنه لا حرمة له»، أي فليتخط المار على رقبة من لم يسد الفرجة". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 635):
"وقد أفاد بعض الفقهاء أن هنا صوراً أربعاً: الأولى: أن يكون للمار مندوحة عن المرور بين يدي المصلي ولم يتعرض المصلي لذلك، فيختص المار بالإثم إن مر. الثانية مقابلتها: وهي أن يكون المصلي تعرض للمرور والمار ليس له مندوحة عن المرور فيختص المصلي بالإثم دون المار. الثالثة: أن يتعرض المصلي للمرور ويكون للمار مندوحة فيأثمان، أما المصلي فلتعرضه، وأما المار فلمروره مع إمكان أن لايفعل. الرابعة: أن لايتعرض المصلي ولايكون للمار مندوحة فلايأثم واحد منهما، كذا نقله الشيخ تقي الدين بن دقيق العيد - رحمه الله تعالى -. اهـ.
قلت: وظاهر كلام الحلية أن قواعد مذهبنا لاتنافيه حيث ذكره وأقره، وعزا ذلك بعضهم إلى البدائع ولم أره فيها، ولو كان فيها لم ينقله في الحلية عن الشافعية، فافهم. والظاهر أن من الصورة الثانية ما لو صلى عند باب المسجد وقت إقامة الجماعة؛ لأن للمار أن يمر على رقبته".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200829

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے