بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نشہ کرنے والے کو زکاۃ دینا


سوال

ایک بھائی ہیں وہ بھٹے  پہ کام کرتے ہیں،  ان پر قرض ہے ایک لاکھ تک،  جو قرض ہوا ہے سننے میں آیا ہے کہ وہ نشہ کرتے ہیں. اس کے 3 بچے بھی ہیں،  وہ چار ماہ کے لیے کام پہ جاتا ہے اور پیسے اتنے نہیں کما پاتا،  ان کا قرض ادا کررہاہے،  گھر نہیں چل رہا،  نشہ ابھی بھی کرتا ہے،  کیا ایسے شخص کو زکاۃ دے سکتے ہیں؟

جواب

اگر مذکورہ شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال نہیں ہے یعنی ان کی ملکیت میں سونا، چاندی، کیش، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد اشیاء چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ) کی مالیت کے بقدر  موجود نہیں ہیں یا مذکورہ نصاب تو مکمل ہے، لیکن قرض کی ادائیگی کے بعد مذکورہ نصاب مکمل نہیں رہتا  تو ایسے شخص کو زکاۃ  دینا جائز ہو گا۔ تاہم اگر یہ اندیشہ ہو کہ وہ زکاۃ کی رقم کو بھی نشہ میں صرف کرے گا تو اشیاءِ ضرورت (راشن وغیرہ) خرید کر بطورِ ملکیت دینے سے بھی زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201878

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے