بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نام سے پہلے عبد یا محمد لگانا


سوال

نام سے پہلے عبدل یا محمد لکھا جاتا ہے، اس کی کیا حیثیت ہے؟ اگر بچے کے نام سے پہلے محمد لگائیں تو کیا اثر پڑتا ہے؟

جواب

 اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے کسی نام پر اگر بچے کا نام رکھا جائے تو اس سے پہلے ’’عبد‘‘ (بمعنی بندہ) لگایا جاتا ہے، مثلا "الرحمٰن" اللہ تعالیٰ کا نام ہے،  اگر اس نام پر بچے کا نام رکھا جائے تو عبد لگانا لازمی ہوگا یعنی عبد الرحمٰن نام رکھا جائے گا، اور مطلب ہوگا رحمٰن کا بندہ، اللہ تعالیٰ کے ناموں کے علاوہ کسی اور نام کے شروع میں ’’عبد‘‘ لگا کر نام رکھنا درست نہیں ہے۔

کسی بھی نام سے پہلے ’’محمد‘‘  لگانا  باعثِ خیر و برکت ہے۔ باقی ’’محمد‘‘ نام  رکھنے کے جو اصل فضائل اور برکات ہیں وہ اس صورت میں حاصل ہوں گے جب صرف نام ہی محمد رکھا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201192

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے