بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچے کا عمرہ


سوال

ڈیڑھ، دو سال کا بچہ عمرہ کرسکتاہے یا نہیں؟ اگر عمرہ کر سکتا ہے تو احرام باندھنا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اس بچے پر کون سے احکام ہوں گے؟ اور اس کا طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

نابالغ بچہ چوں کہ احکامِ شرعیہ کا مکلف نہیں ہے اس لیے اسے احرام پہنانا اور احرام کی پابندیوں کی رعایت رکھنا ضروری نہیں،  اسے بنا احرام کے بھی لے جایا جاسکتا ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائقمیں ہے: (2/ 340):
’’ولما كان الصبي غير مخاطب كان إحرامه غير لازم، ولذا لو أحصر وتحلل لا دم عليه ولا جزاء ولا قضاء‘‘.
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200750

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے