بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1440ھ- 21 اپریل 2019 ء

دارالافتاء

 

میں تجھے دے دوں گا، میں نے تجھے دے دیا، مان لو میں نے تجھے دے دیا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا: میں تجھے دے دوں گا، میں نے تجھے دے دیا، مان لو میں نے تجھے دے دیا. کیا یہ الفاظ منہ میں لانے سے بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی؟ اس نے ان الفاظ میں طلاق کا لفظ منہ میں نہیں لایا. اور اس نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہا؛ بلکہ غصہ کی حالت میں کہا تھا. براہِ کرم جواب عطا فرمائیے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ بیوی کو کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور برقرار ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں