بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، چار بیٹے اور ایک بیٹی میں میراث کی تقسیم


سوال

ہم چار بھائی اور ایک بہن اور ایک ماں ہے، ہمارے والد صاحب کا ایک مکان ہے، اس کی مالیت 1700000 سترہ لاکھ روپے ہے، ہر ایک کا حصہ بتا دیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے  والد کا  انتقال ہوگیا ہے اور  سائل کے دادا دادی سائل کے والد کی زندگی میں وفات پا چکے تھے تو  سائل کے والدِ مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کی صورت یہ ہوگی کہ مرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو بقیہ مال کے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد  مرحوم  کی بقیہ کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے 72 حصے کر کے مرحوم کی بیوہ کو 9 حصے ، ہر ایک بیٹے کو 14 حصے اور بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔ یعنی 1700000(سترہ لاکھ )روپے کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ آپ کی والدہ کو  212500 روپے ، ہر ایک بھائی کو  330555/55 روپے اور بہن کو 165277/77 روپے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200269


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں