بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، پانچ بیٹیوں، ایک بھائی اور تین بہنوں کا حصہ میراث


سوال

ایک مرحوم شخص جس نے اپنی جائیداد کے حوالے سے کوئی وصیت نہیں کی،  اس کے وارثوں میں دوسری بیوی موجود ہے، پہلی بیوی انتقال کر چکی ہے۔ اس کی پانچ بیٹیاں ہیں۔ تمام بیٹیاں شادی شدہ ہیں۔ بیٹا مرحوم کی زندگی میں انتقال کر چکا تھا۔ ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ جو شادی شدہ ہیں اور بھائی کے زیر کفالت نہیں تھے۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ ان تمام لوگوں میں جائیداد کی تقسیم کس حساب سے ہو گی؟اور کیا جائیداد میں بہن بھائی کا حصہ ہو گا یا صرف بیٹیوں اور بیوہ میں تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے   حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو (مثلاً بیوی کا مہر وغیرہ) تو قرضہ کی ادائیگی کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 120 حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے 15 حصے مرحوم کی بیوہ (دوسری بیوی جو کہ زندہ ہے) کو، 16  حصے مرحوم کی ہر بیٹی کو، 10 حصے مرحوم کے بھائی کو اور 5 حصے مرحوم کی ہر بہن کو ملیں گے۔

فیصد کے اعتبار سے 100 % میں سے  12.5 % مرحوم کی بیوہ کو، 13.333 % مرحوم کی ہر بیٹی کو، 8.333% مرحوم کے بھائی کو اور 4.166% مرحوم کی ہر بہن کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200853

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے