بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مہندی لگانا سنت ہے یا مستحب؟


سوال

میں نے کچھ لوگوں کے منہ سے سنا ہے،  وہ بولتے ہیں مہندی لگانا سنت ہے،  ایسا کہاں لکھا ہے؟ اس کی وضاحت کریں!

جواب

مرد کے لیے سر اور داڑھی کے بال سفید ہوجانے کی صورت میں سیاہ رنگ کے علاوہ مہندی کا خضاب لگانے کو فقہاءِ کرام  نے  مستحب لکھا  ہے،عورتوں کے لیے ہاتھ اور پاؤں پر ہر رنگ کی مہندی لگانا جائز ہے جب کہ سر کے بالوں میں سیاہ رنگ کی مہندی کے علاوہ مہندی کا  استعمال جائزہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار (6 / 422):
" يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح، والأصح أنه عليه الصلاة والسلام لم يفعله ويكره بالسواد، وقيل: لا".

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (6 / 422):
"(قوله: خضاب شعره ولحيته ) لا يديه ورجليه؛ فإنه مكروه للتشبه بالنساء ، (قوله: والأصح أنه عليه الصلاة والسلام لم يفعله )؛ لأنه لم يحتج إليه؛ لأنه توفي ولم يبلغ شيبه عشرين شعرةً في رأسه ولحيته بل كان سبع عشرة، كما في البخاري وغيره،  وورد أن أبا بكر رضي الله عنه خضب بالحناء والكتم، مدني".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (22 / 88):
" ولا بأس للنساء بخضاب اليد والرجل ما لم يكن خضاب فيه تماثيل، ويكره للرجال والصبيان؛ لأن ذلك تزين، وهو مباح للنساء دون الرجال، ولا بأس بخضاب الرأس واللحية بالحناء والوشمة للرجال والنساء؛ لأن ذلك سبب لزيادة الرغبة والمحبة بين الزوجين".

حاشية رد المحتار (6 / 756):
"ومذهبنا أن الصبغ بالحناء والوسمة حسن، كما في الخانية. قال النووي: ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة، وتحريم خضابه بالسواد على الأصح؛ لقول عليه الصلاة والسلام: غيروا هذا الشيب واجتنبوا السواد". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے