بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

’’مہر مؤجل عند الطلب‘‘ کی وضاحت اور زکات کی ادائیگی کے وقت منہا کرنے کا حکم


سوال

بیوی کے مہر مؤجل عندالطلب کی وضاحت کردیں۔ اور کیا اس کو زکات کی ادائیگی کے وقت منہا کیا جائے گا ؟

جواب

مہر کی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک معجل اور دوسرا مؤجل، معجل سے مراد وہ مہر ہوتا ہے جس کا ادا کرنا نکاح کے فوری بعد ذمہ پر  واجب ہوجاتا ہے اور بیوی کو نکاح کے فوری بعد اس کے مطالبہ کا پورا حق حاصل  ہوتا ہے، جب کہ مؤجل سے مراد وہ مہر ہوتا ہے جس کی ادائیگی نکاح کے بعد فوری واجب نہ ہو، بلکہ اس کی ادائیگی کے لیے  کوئی خاص میعاد  مقرر کی گئی ہو  یا اس کی ادائیگی کو مستقبل میں بیوی کے مطالبے پر موقوف رکھا گیا ہو،  اگر کوئی خاص میعاد مقرر کی گئی ہو تو بیوی کو اس مقررہ وقت کے آنے سے پہلے اس مہر کے مطالبے کا حق نہیں ہوتا، اور اگر بیوی کے مطالبہ پر موقوف رکھا گیا ہو تو اسے ’’مہرِ مؤجل عند الطلب ‘‘ کہتے ہیں۔

اس کا حکم یہ ہے کہ  بیوی جب بھی مطالبہ کرے گی اس وقت فوری طور پر شوہر کے ذمہ یہ مہر ادا کرنا لازم ہوگا، گویا حکم کے اعتبار سے یہ مہر بھی ایک طرح سے مہر معجل ہی ہے، اس لیے کہ بیوی جب بھی چاہے اس کی ادائیگی کا مطالبہ کرسکتی ہے، لہٰذا اگر شوہر کی نیت بیوی کے مطالبہ پر مہر ادا کرنے کی ہو تو زکات کی ادائیگی کے وقت مہر کی واجب الادا رقم کو منہا کیا جائے گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 318):

"وإن بينوا قدر المعجل يعجل ذلك، وإن لم يبينوا شيئاً ينظر إلى المرأة وإلى المهر المذكور في العقد أنه كم يكون المعجل لمثل هذه المرأة من مثل هذا المهر فيجعل ذلك معجلاً ولايقدر بالربع ولا بالخمس وإنما ينظر إلى المتعارف، وإن شرطوا في العقد تعجيل كل المهر يجعل الكل معجلاً ويترك العرف، كذا في فتاوى قاضي خان ... ولو قال: نصفه معجل ونصفه مؤجل كما جرت العادة في ديارنا ولم يذكر الوقت للمؤجل اختلف المشايخ فيه، قال بعضهم: لايجوز الأجل ويجب حالاً، وقال بعضهم: يجوز ويقع ذلك على وقت وقوع الفرقة بالموت أو بالطلاق، وروى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - ما يؤيد هذا القول، كذا في البدائع.

لا خلاف لأحد أن تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه، قال بعضهم: يصح وهو الصحيح، وهذا؛ لأن الغاية معلومة في نفسها وهو الطلاق أو الموت، ألا يرى أن تأجيل البعض صحيح، وإن لم ينصا على غاية معلومة، كذا في المحيط. وبالطلاق الرجعي يتعجل المؤجل ولو راجعها لايتأجل، كذا أفتى الإمام الأستاذ، كذا في الخلاصة".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 6):

"ومنها: أن لايكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالاً كان أو مؤجلاً ... وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلاً كان أو مؤجلاً؛ لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: إن المؤجل لايمنع؛ لأنه غير مطالب به عادةً، فأما المعجل فيطالب به عادةً فيمنع، وقال بعضهم: إن كان الزوج على عزم من قضائه يمنع، وإن لم يكن على عزم القضاء لا يمنع؛ لأنه لا يعده دينا وإنما يؤاخذ المرء بما عنده في الأحكام".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200952

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے