بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

مورث کی زندگی میں وارث کا انتقال


سوال

میری دادی کے نام پرایک مکان ہے، جو میرے والد اور دوچچا نے مل کر لیا تھا اور دادی کے نام کر دیا تھا؛ اس لیے کہ سب آپس میں محبت سے رہیں، دادی سے پہلے میرے والد کا انتقال ہو گیا، کیا اب اس مکان میں میرے والد کا حصّہ ختم ہوگیا؟

جواب

اگر آپ کے والد اور چچا نے آپ کی دادی کو مالک بنانے کی غرض سےمذکورہ مکان ان کے نام خریدا تھا  اوراس پرانہیں مالکانہ اختیارات حاصل ہیں تو یہ مکان آپ کی دادی کی ملکیت ہے، چوں کہ آپ کی دادی کی زندگی میں والد کا انتقال ہوگیا ہے ، لہذادادی کی وفات کے بعد اس مکان میں بطور وراثت آپ لوگوں کا حصہ نہیں ہوگا، تاہم اگر کوئی  عاقل و بالغ وارث برضا و خوشی اپنے حصے میں سے کچھ دینا چاہے تو اس کی اجازت ہوگی۔

اور اگر مکان والد اورچچا ہی کا تھا، دادی کو ملکیت نہیں دی گئی تھی بلکہ احتراماً ان کے نام کیا گیا تھا تو آدھا مکان آپ کے والد کا تھا۔ اس صورت میں مذکورہ مکان کا آدھا حصہ ان کی اولاد اوردیگر ورثاء میں میراث کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143902200094

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے