بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

موذی حشرات کو مارنے کا حکم


سوال

باتھ روم اور گٹر کے اندر ایک جانور رہتا ہے، جسے ہم کن کھجورا کہتے ہیں۔پوچھنا یہ تھا کہ اس سانپ کی طرح رینگنے والے جانور کو مارنے یا گٹر میں بہانے کا شریعتِ  مطہرہ میں کوئی حکم ہے یا نہیں؟

جواب

فقہاءِ  کرام نے لکھا ہے کہ وہ حشرات الارض جو موذی ہوتے ہیں اور انسانوں کے لیے تکلیف اور نقصان کا باعث بنتے ہیں انہیں مارنے میں کوئی حرج نہیں، کن کھجورا بھی ایسے ہی حشرات الارض میں شامل ایک زہریلا کیڑ اہے، لہذا اس کےمارنے یا گٹر میں بہادینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ اس طرح کے موذی جانور وں اور حشرات الارض کے مارنے میں بھی ایساطریقہ اختیارکرنا چاہیے جس میں جلد ان کی جان نکل جائے، البتہ انہیں جلانا درست نہیں ہے ۔

اکمال المعلم شرح صحیح مسلم میں ہے :

"وقيل: بل المراد بتعييئ هذه الخمسة التنبيه على ما شابهها في الأذى، وقاسوا سائر السباع على الكلب العقور، وسائر ما يتصدى للافتراس من السباع، وعلى الحدأة والغراب ما في معناهما، وإنما خص لقربهما من الناس، ولو وجد ذلك من الرخم والنسور لكانت مثلها، وكذلك نبه بالفأرة على ما ضرره مثلها وأشذ منها كالوزغ، وكذلك نبه بالعقرب على الزنبور، وبالحية والأفعى على أشباهها من ذوات السموم والمهلكات". (4/108)

فتاوی شامی میں ہے :

"( ولا شيء بقتل غراب ) إلا العقعق على الظاهر ظهيرية، وتعميم البحر رده في النهر ( وحدأة ) بكسر ففتحتين وجوز البرجندي فتح الحاء ( وذئب وعقرب وحية وفأرة ) بالهمزة وجوز البرجندي التسهيل ( وكلب عقور ) أي وحشي ، أما غيره فليس بصيد أصلاً ( وبعوض ونمل ) لكن لايحل قتل ما لايؤذي، ولذا قالوا: لم يحل قتل الكلب الأهلي إذا لم يؤذ والأمر بقتل الكلاب منسوخ كما في الفتح : أي إذا لم تضر ( وبرغوث وقراد وسلحفاة ) بضم ففتح فسكون ( وفراش ) وذئاب ووزغ وزنبور وقنفذ وصرصر وصياح ليل وابن عرس وأم حبين وأم أربعة وأربعين، وكذا جميع هوام الأرض؛ لأنها ليست بصيود ولا متولدة من البدن ( وسبع ) أي حيوان ( صائل ) لايمكن دفعه إلا بالقتل". (8/481)

وفیہ ایضاً :

"وجاز قتل ما يضر منها ككلب عقور وهرة ) تضر ( ويذبحها ) أي الهرة ( ذبحاً) ولايضر بها لأنه لايفيد ، ولايحرقها وفي المبتغى يكره إحراق جراد وقمل وعقرب". (29/328)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"قتل الزنبور والحشرات هل يباح في الشرع ابتداء من غير إيذاء وهل يثاب على قتلهم؟ قال: لايثاب على ذلك وإن لم يوجد منه الإيذاء، فالأولى أن لايتعرض بقتل شيء منه، كذا في جواهر الفتاوى". (44/79)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے