بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

موبائل کمپنی کی طرف سے رقم جمع کروانے کی شرط پرقارض کو مفت سہولیات فراہم کرنا


سوال

یہ جو موبائل اکاؤنٹ میں رقم رکھنے پر مفت منٹ ملتے ہیں کیا یہ مفت منٹ لینا جائز ہے؟

جواب

سیلولر کمپنیوں کی طرف سے اکاؤنٹ ہولڈر کو جو مختلف قسم کی مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں وہ اس شرط پر فراہم کی جاتی ہیں کہ صارف اپنی سیلولر کپمنی کے پاس ایک مخصوص اکاؤنٹ کھلوائے اور اس اکاؤنٹ میں سیلولر کمپنی کی طرف سے اعلان کردہ مخصوص رقم مثلاً 1000 روپے جمع کرائے، درحقیقت یہ رقم کمپنی کے ذمہ قرض ہوتی ہے جس کی وجہ سے صارف مذکورہ رقم جب نکلوانا چاہے کمپنی جمع شدہ رقم واپس کرنے کی پابند ہوتی ہے، پس کمپنی مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر اکاؤنٹ ہولڈر کو یومیہ فری منٹس اور میسیجز وغیرہ کی سہولت فراہم کرتی ہے ، مذکورہ مفت فراہم کردہ سہولیات چوں کہ قرض پر مشروط نفع کے طور پر کمپنی کی طرف سے صارف/اکاؤنٹ ہولڈر کو فراہم کی جاتی ہیں جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔ اس لیے کہ قرض پر شرط لگا کر نفع اٹھانے کو نبی کریم ﷺ نے سود قرار دیا ہے۔ (مصنف بن أبی شیبہ، رقم: ۲۰۶۹۰ ) 

" فتاوی شامی " میں ہے: 

" وفي الأشباه: کلّ قرضٍ جرّ نفعاً فهو حرام". ( ج: ۵، ص: ۱۶۶، ط: سعید)

اگر کوئی کمپنی اس طرح کا '' ایزی پیسہ اکاؤنٹ'' بنائے جس میں صرف اصل جمع کردہ رقم کے برابر ہی استفادہ کیا جاسکتاہو، اضافی کوئی نفع نہ دیا جاتاہو تو  ایسے اکاؤنٹ سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے