بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1440ھ- 21 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

موبائل کمپنی سے ادھار(ایڈوانس) رقم لینا


سوال

اکثر ہم لوگ بیلنس ختم ہونے کے بعد ایڈوانس لےلیتے ہیں، ایسا کرنا جائز ہے  یا سود میں آتا ہے؟

جواب

موبائل کمپنی اگرزائد رقم خدمت مہیا کرنے کے عوض وصول کرتی ہے، یعنی سروس چارجز کی مد میں زائد رقم لیتی ہے توایڈوانس لینا جائز ہے۔

بیلنس ختم ہونے کے بعد بعض موبائل کمپنیاں جو مسیج بھیجتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی ایڈوانس کی سہولت دے کر  اس پر جو کچھ رقم کاٹتی ہے وہ سروس چارجز کی مد میں کاٹتی ہے، لہذا ایسی موبائل کمپنیوں سے ایڈوانس بیلنس کی سہولت حاصل کرنا جائز ہے، تاہم اگر کوئی شخص  احتیاط کے درجہ میں اس سے بچتا ہے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

اوراگر قرض دے کر اس کا عوض وصول کرتی ہے تو سود ہے، اور ایڈوانس لیناناجائزہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے