بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

موبائل فون کے ذریعہ نکاح درست نہیں


سوال

موبائل فون پر نکاح جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

انعقادِ نکاح کے لیے چوں کہ عاقدین یا ان کے وکلاء کا ایجاب و قبول کرتے وقت مجلسِ نکاح میں ہونا شرعاً ضروری ہے جس کی وجہ سے موبائل پر نکاح منعقد نہیں ہوتا، البتہ اگر موبائل پر کسی شخص کو وکیل بنا دیا جائے اور وہ وکیل اُس کی طرف سے گواہوں کی موجودگی میں مجلس نکاح میں ایجاب یا قبول کر لے تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 268):

"(ومنها) سماع الشاهدين كلامهما معاً، هكذا في فتح القدير".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201127

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے