بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ملازمت کی وجہ سے داڑھی منڈانا


سوال

میں دبئی  جا کر ملازمت کرنا چاہتا ہوں، میری فیلڈ کمپیوٹر سائنس ہے، لیکن مجھے اپنی فیلڈ سے متعلقہ نوکری نہیں مل رہی،  دبئی کی ایک کمپنی ہے جس کا اصول یہ ہے کہ آپ داڑھی نہیں رکھ سکتے،  کلین شیو رہنا ہوگا ، کیا میں ایسی کمپنی میں مجبوری کی حالت میں نوکری کر سکتا ہوں؟  پہلا کنٹریکٹ دو سال کی مدت کا ہو گا، اس کے ساتھ ساتھ میں وہاں نوکری ڈھونڈ سکتا ہوں اور اگر مل گئی تو 6 مہینے کے اندر جاب تبدیل کر سکتا ہوں،  نہ ملی تو دو سال کام کرنا ہو  گا، مجھے بتائیں  کیا ایسی کمپنی میں کام کرنا میرے  لیے صحیح ہے؟  کیا میرا رزق حرام تو نہیں ہو جائے گا داڑھی نہ رکھنے والی شرط کی وجہ سے؟

جواب

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام اور صحابہٴ کرام نے ہمیشہ داڑھی رکھی اور  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم بھی فرمایا؛ اس لیے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ داڑھی رکھنا (یعنی کم از کم یک مشت) واجب ہے، اس کو  ایک مشت سے پہلے کٹوانا ناجائز اور حرام ہے؛ لہذا  ”ملازمت“ یا اس طرح کی دیگر وجوہات کی بنا پر داڑھی منڈانے یا  ایک مشت سے  پہلے کٹوانے کی گنجائش نہیں ہے، اگر کوئی کٹواتا ہے تو شریعت کی اصطلاح میں وہ ”فاسق“ شمار ہوگا۔

ضروری نہیں کہ دبئی میں ہی ملازمت کی جائے، اندرون و بیرون ملک ایسے بہت سے ادارے اور کمپنیاں ہیں جہاں ایسی شرائط نہیں ہوتیں، اس لیے متبادل جگہ تلاش کیجیے، اور اگر بالفرض اس فیلڈ میں کوئی ملازمت نہ ملے تو اس کے علاوہ حلال روزگار کے بہت سے مواقع ہیں، اللہ پر یقین اور توکل رکھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیے اور حلال روزی کی تلاش جاری رکھیے، ان شاء اللہ ضرور حاجت براری ہوگی، بسااوقات اللہ تعالیٰ بندے کو آزماتے ہیں، اور آزمائش میں پورا اترنے پر بے حد نوازتے بھی ہیں، لہٰذا آپ کسی صورت خلافِ شرع کسی بات کا تصور بھی نہ کیجیے، پنج وقتہ نمازوں کی باجماعت پابندی کے ساتھ استغفار، درود شریف اور ’’یا وَدُوْدُ‘‘ کثرت سے پڑھیے۔ 

بہرحال اگر کسی ادارے میں ملازمت کے لیے داڑھی کا کٹانا ضروری ہو اور کوئی شخص  کاٹ لے تو اس کی وجہ سے اس کا رزق حرام تو نہیں ہو گا،  لیکن داڑھی کاٹنے کا گناہ مستقل ساتھ ہوگا۔ 

فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 348):
"وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد".
  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201634

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے