بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مقروض قرض واپس کرتے ہوئے زائد رقم بھی دے


سوال

زید نے عمرو کو ایک لاکھ روپیہ بطور قرضِ حسنہ دیا ہے، اب جب عمرو اس کو واپس کرتا ہے  تو ایک لاکھ اور پانچ  ہزار واپس کرتا ہے ، زید پانچ ہزار زیادہ لینے سے انکار کرتا ہے، لیکن عمرو کہتا ہے  کہ یہ میں بطیب النفس دے رہا ہوں تو صورتِ مذکورہ میں زید کے لیے پانچ ہزار زیادہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زید نے قرض دیتے وقت اصل رقم سے زائد رقم واپس کرنے کی شرط نہیں لگائی تھی اور عمرو قرض واپس کرتے ہوئے اپنی خوشی سے اصل رقم کے ساتھ زائد رقم بھی دے رہا ہے تو یہ زائد رقم زید کے لیے لینا جائز ہے، جیساکہ فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ) أَيْ إذَا كَانَ مَشْرُوطًا كَمَا عُلِمَ مِمَّا نَقَلَهُ عَنْ الْبَحْرِ، وَعَنْ الْخُلَاصَةِ وَفِي الذَّخِيرَةِ: وَإِنْ لَمْ يَكُنْ النَّفْعُ مَشْرُوطًا فِي الْقَرْضِ، فَعَلَى قَوْلِ الْكَرْخِيِّ لَا بَأْسَ بِهِ"۔ ( [مَطْلَبٌ كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ]، ٥/ ١٦٦، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200564

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے