بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مغرب کے وقت دروازے بند کرنا


سوال

1- کیا مغرب کی اذان کے وقت دروازہ بند کرنے کا حکم ہے؟

2-  اگر دم کی پانی کی بوتل ہے، وہ گرجائے تو گناہ گار ہوں گے؟

جواب

1 : بعض روایات میں رات کی تاریکی چھانے کے وقت دروازے بند کرنے کا ذکر ہے؛ غروبِ آفتاب سے لے کر عشاء کا وقت داخل ہونے تک شیاطین وجنات کا گزر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بچوں کو باہر چھوڑنے سے بھی منع فرمایا ہے اور  اس کے بعد دروازے بند کرنے اور برتن وغیرہ ڈھانکنے کا بھی ارشاد فرمایا ہے، جیساکہ صحیح بخاری میں ہے :

"5623 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ، أَوْ أَمْسَيْتُمْ، فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحُلُّوهُمْ، فَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَيَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا، وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ»".

قال النووي في شرح صحيح  مسلم: "قَوْله: جُنْح اللَّيْل هُوَ ظَلَامه، وَيُقَال: أَجْنَحَ اللَّيْل أَيْ: أَقْبَلَ ظَلَامه. فَكُفُّوا صِبْيَانكُمْ أَيْ: اِمْنَعُوهُمْ مِنْ الْخُرُوج ذَلِكَ الْوَقْت". وقال الشبيهي الإدريسي في الفجر الساطع على الصحيح الجامع: إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ: أي أوله عند غروب الشمس".

2 : دم کے پانی کی بوتل گرنے سے گناہ نہیں ملتا۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (15 / 174):
"فإن قلت: ما حكم أوامر هذا الباب؟ قلت: جميعها من باب الإرشاد إلى المصلحة الدنيوية، كقوله تعالى: {واشهدوا إذا تبايعتم} (البقرة: 282) . وليس على الإيجاب، وغايته أن يكون من باب الندب، بل قد جعله كثير من الأصوليين قسما منفردا بنفسه عن الوجوب والندب، وينبغي للمرء أن يمتثل أمره، فمن امتثل أمره سلم من الضرر بحول الله وقوته، ومتى والعياذ بالله خالف إن كان عنادا خلد فاعله في النار، وإن كان عن خطأ أو غلط فلايحرم شرب ما في الإناء أو أكله، والله أعلم". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201600

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے