بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

معانقہ کی حیثیتِ شرعی


سوال

کیا معانقہ روزانہ کرنا سنت ہے؟  ہمارے ایک دوست ہیں ان سے روزانہ ملاقات ہوتی ہے،  میں ان کو السلام علیکم کہتا ہوں وہ اٹھ کر گلے ملنا شروع کر دیتے ہیں، میں  کہہتا ہوں گلے لگنا یا ملنا روزانہ ضروری نہیں ہے ، تو وہ کہتے ہیں کہ  روزانہ نہیں، بلکہ  جب بھی ملو گلے ملنا سنت ہے،  آپ وہابی ہو،  اس لیے صرف سلام کرتے ہو۔  براہِ مہربانی سنت کی روشنی میں بتائیں کہ معانقہ  کب کیا جاتا ہے؟  روزانہ ملنے والوں سے یا کب کرنا چاہیے؟ اور سلام کرنا دونوں کو واضح کریں۔

جواب

احادیثِ مبارکہ میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب سفر سے واپس آتے تو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کا استقبال فرماتے اور ان سے معانقہ بھی فرماتے، لیکن روزانہ یا عمومی ملاقات میں آپ ﷺ یا صحابہ کرام معانقہ نہیں کیا کرتے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ جب ملاقات کرتے تھے تو مصافحہ کرتے تھے، اور جب سفر سے آتے تھے تو معانقہ کرتے تھے۔ (الترغیب والترہیب) لہذا ہر ملاقات پر معانقہ کرنا سنت نہیں ہے، سفر سے واپسی ہو، یا دور دراز سے کوئی ملاقات کے لیے آئے یا بہت عرصے بعد ملاقات ہو تو ان مواقع پر معانقہ کیا جاسکتاہے۔

فقہاء نے لکھا ہے کہ معانقہ کی شرعی حیثیت جواز کی ہے۔ ملاقات کے وقت اصل سنت سلام (یعنی زبان سے السلام علیکم کے الفاظ کہنا) ہے، اور اس کا تتمہ مصافحہ ہے۔  اور  اگر کوئی شخص ملاقات کے وقت سنت،  اور سلام کاتتمہ ہونے کی حیثیت سے معانقہ  کرے تو یہ مکروہ ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 380):
"ويكره أن يقبل الرجل فم الرجل أو يده أو شيئاً منه أو يعانقه، وذكر الطحاوي أن هذا قول أبي حنيفة ومحمد، وقال أبو يوسف: لا بأس بالتقبيل والمعانقة؛ لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام  عانق جعفراً حين قدم من الحبشة وقبله بين عينيه»، ولهما ما روي " «أنه عليه الصلاة والسلام نهى عن المكامعة» ؟ " وهي المعانقة «وعن المكاعمة» وهي التقبيل".

اعلاء السنن میں ہے:

"التقبيل والاعتناق قد يكونان علی وجه التحية،كالسلام والمصافحة، وهما اللذان نهي عنهما في الحديث؛ لأن مجرد لقاء المسلم إنما موجبه التحية فقط، فلما سأل سائل عنهما عند اللقاء فكأنه قال : إذا لقي الرجل أخاه أو صديقه فكيف يحييه؟ أيحييه بالانحناء والتقبيل والالتزام أم بالمصافحة فقط؟ فأجاب رسول الله صلي الله عليه وسلم بأن يحييه بالمصافحة  ولايحييه بالانحناء والتقبيل والاعتناق، فثبت أن التحية بهذه الأمور غير مشروعة، وإنما المشروع هو التحية بالسلام والمصافحة، وهو ما ذهب إليه أئمتنا الثلاثة :أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد، لأن هذه المسالة ذكره محمد في "الجامع الصغير" ونصه علي ما في البناية (4/251): محمد عن يعقوب عن أبي حنيفة قال: أكره أن يقبل الرجل من الرجل فمه أو يده أو شيئاً منه، وأكره المعانقة، ولاأري بالمصافحة بأساً"، وهذا يدل بسياقه على أن التقبيل والمعانقة الذين كرهما أبو حنيفة هما اللذان يكونان على وجه التحية عند اللقاء لا مطلقاً،

ويدل أيضاً على أن المسألة مما اتفق عليه الأئمة الثلاثة؛ لأن محمداً لم يذكر الخلاف فيها، وقد يكونان علی وجه الشهوة وهما المكاعمة، والمكامعة التي يعبر عنهما بالفارسية ب"بوس وكنار" وهما لاتجوزان عند أئمتنا الثلاثة؛ لورود النهي عنهما بخصوصهما، وبالأدلة الأخرى بعمومها، وقد يكونان لهيجان المحبة والشوق والاستحسان  عند اللقاء وغيره من غير شائبة الشهوة، وهما مباحان باتفاق أئمتنا الثلاثة؛ لثبوتهما عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه؛ ولعدم مانع شرعي عنه، هذا هو التحقيق". ( إعلاء السنن 17/418، کتاب الحظر والإباحة، باب كراهة تقبيل الرجل والتزامه أخاه علي وجه التحية، إدارة القرآن والعلوم الإسلامية) فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144008200307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے