بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ ثلاثۃ کے ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنے والے سے قطع تعلقی


سوال

میرے بڑے بھائی نے اپنی بیوی سے گھریلو ناچاقی کی بنا پر نہ صرف کافی عرصے علیحدگی اختیار کی، بلکہ ہمیں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو بذریعہ ڈاک طلاق بھی بھجوا چکے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کسی نے وہ طلاق نامہ نہیں دیکھا۔ بھائی کے سسرال والوں نے البتہ اس بات کا اقرار کیا کہ انہیں طلاق نامہ موصول ہوا ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے کے اس عورت نے نہ تو عدّت کی اور اپنی بہن کے گھر اس کے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی رہی۔ تقریباً 2 سال اسی طرح گزرے اور بھائی نے دوسری شادی کے ارادے سے ایک جگہ منگنی بھی کی جو نہ چل سکی ۔ کچھ عرصے بعد بھائی نے اپنی مطلقہ بیوی کو یہ کہہ کر لانے کا ارادہ ظاہر کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں صرف نوٹس بھجوایا تھا ۔ لیکن کبھی کسی کو وہ نوٹس نہیں دکھایا اور نہ جانے کس مسلک کا فتویٰ بھی لے آئے کہ میری طلاق نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ ہم اہل سنت و جماعت حنفی سے تعلق رکھتے ہیں۔ قصّہ مختصر نہ جانے کیا سچ جھوٹ بول کر انہوں نے گھر والوں کو یہ کہہ کر راضی کرلیا کہ وہ 3 مہینے میں اپنی فیملی کو لے کر چلے جائیں گے۔ مگر نہیں گئے اس دوران اس عورت نے خود اقرار بھی کیا کہ ہماری طلاق ہوگئی تھی، مگر یہ مجھے بچوں کی خاطر لے آئے اور دونوں پھر پہلے کی طرح رہنے لگے۔ ہم نہیں جانتے کے وہ اب شرعاً میاں بیوی ہیں بھی کہ نہیں۔ اس پورے واقعے کے بعد ہم نے ان سے مکمل قطع تعلق کر لیا ہے۔ کیا ہمارا فیصلہ صحیح ہے؟ کیا ہمارا یہ عمل قطع رحمی میں تو شامل نہیں؟ ہمارا بھائی بات بات پر قسم اور قرآن اٹھانے والا انسان ہے اور میں اس بات کا سخت خلاف ہوں۔ براے مہربانی رہنمائی فرما دیں۔

جواب

سوال میں ذکرکردہ صورتِ حال میں  سائل کے بھائی اور ان کی اہلیہ وغیرہ کی جانب سے  ذکرکردہ بیانات سے محض طلاق کا  ثبوت ہوتا ہے، اس میں تین طلاق کا ذکر نہیں ہے ، جب کہ ایک یا دو طلاق  کے بعد دوبارہ رجوع کرکے یا نکاح کرکے ساتھ  رہنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے؛ لہذا جب تک تین طلاق کا ثبوت نہ ہو تب تک  قطع تعلقی نہ کی جائے ، البتہ  اگر  تین طلاق کا   ثبوت ہوجائے اور حلالہ شرعیہ کے بغیر وہ ساتھ رہ رہے ہوں اور سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں تو  ان سے ہر طرح کا بائیکاٹ کرنا جائز ہے ۔ یہ قطع رحمی میں شمار نہ ہوگا ، حضورِ اکرم ﷺ نے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسلمانوں کو بائیکاٹ کا حکم دیا تا آں کہ اللہ تعالی  کی طرف سے ان کی توبہ  کی قبولیت کا حکم  ہوگیا ؛  لہذا جب تک  اپنے اس گناہ سے باز نہ آئیں ان سے قطع تعلقی کرنا جائز ہے۔

اگر بھائی نے طلاقیں تو تین سے کم دی ہوں مگر عدت میں رجوع نہ کیا ہو اور پھر تجدید نکاح کیے بغیر بیوی سے تعلقات زوجیت بحال کرلیے ہوں اور قطع تعلق سے اس کی اصلاح کی توقع ہو تو قطع تعلقی جائز ہوگی، ورنہ نہیں۔

قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :

﴿وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِہٖ ۭ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ﴾(۶- الانعام:۶۸)
ترجمہ: اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات میں عیب جوئی کررہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجا؛ یہاں تک کہ وہ کوئی اور بات میں لگ جائیں اور اگر تجھ کو شیطان بھلادے، تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔ (بیان القرآن، آیت نمبر:۶۸) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202369

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے