بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

مضاربت میں متعین نفع رکھنا


سوال

زید لوگوں سے کہتاہے کہ میں عمرکو رقم دیتاہوں، اس رقم پر نفع میں شریک ہوں جب کہ نقصان میں نہیں کوئی 20 لاکھ روپے پر 40ہزار لے رہا ہے، اس میں زید بھی کمیشن لیتاہے واسطہ بننے کا، کوئی 10لاکھ پر 20 ہزار، کمی پیشی بھی ہو تی ہے جب کہ لوگ عمر کو نہیں جانتے، البتہ یہ معلوم ہے کہ وہ پلاسٹک کا کام کرتا ہے ۔ایسے پیسے لگانا ٹھیک ہے زید کے ذریعے؟

جواب

مشارکت/ مضاربت مٰیں نفع کے ساتھ نقصان مٰیں شرکت بھی  ضروری ہے، یہ جائز نہیں  کہ انویسٹر کو صرف نفع ملے نقصان نہ ہو۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ  نفع بھی متعین نہ ہو، بلکہ  نفع کا فی صد متعین ہو۔ 

اگر مذکورہ صورت میں نفع کے ساتھ نقصان میں بھی شرکت ہو، اور نفع فی صدی حصے میں طے کیا جائے تو زید جو بروکر کے طور پر کام کرتا ہے اور لوگوں کی رقوم وہاں لگواتا ہے، اس کا طے کرکے اجرت (کمیشن) لینا درست ہوگا۔

الربح على ما شرطا ، والوضيعة على قدر المالين " . (فتح القدير، كتاب الشركة)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200942

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے