بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ کاروبار کے لیے خریدی گئی دکانوں کی ملکیت


سوال

50سال پہلے دو بھائیوں نے اکٹھے کاروبار شروع کیا ۔ 2 دکانیں تھیں، دونوں بڑے بھائی (ر) کے زیراستعمال رہیں،چھوٹے بھائی (ب) نے کچھ عرصہ دکان کام کرنے کے بعد چھوڑ دیا اور دوسرا کاروبار شروع کیا،15 سال بعد (ب) کا انتقال ھو گیا۔ دوکانیں 45۔40 سال (ر) کی ملکیت میں رہیں۔اب (ر) کے انتقال کے بعد یہ بات سامنے آئی دکانوں میں سے 1 دکان (ر) اپنی زندگی میں اپنے چھوٹے بیٹے کے نام کر گئے جبکہ دوسری دوکان اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کےلئے کسی کےنام نہیں کی۔ جو دوکان (ر) اپنے بیٹے کو دی وہ انکے اپنے نام تھی جبکہ دوسری دوکان انکے چھوٹے بھائی (ب) کے نام تھی۔ اب (ر) کی اولاد کا موقف ھے کہ کیونکہ 50 سال دوکان ہمارے باپ کی ملکیت میں رہی اور اس وقت ٹیکس سے بچنے کیلئے (ب) کے نام سے لی تھی تو اسکے حقدار ھم ھیں جبکہ (ب) کی اولاد کا کہنا ہے کیونکہ دوکان ہمارے باپ کے نام ھے تو اسکے حقدار ہم ہیں۔ دونوں بھائیوں نے اس بات کا ذکر کبھی اپنی اولاد سے نہیں کیا کہ دوکان کس کے نام ھے۔ برائے مہربانی ھماری رہنمائی کیجئے کہ اسلام اسکے بارے میں کیا کہتا ھے۔

جواب

مذکورہ صورت میں دونوں دکانیں دونوں بھائیوں کے ورثا میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی کیونکہ دونوں دوکانیں مشترکہ تھیں اور کسی ایک شریک کو دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر مشترکہ شی کسی کے نام کرنے کاحق نہیں تھا۔


فتوی نمبر : 143705200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے