بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 رجب 1440ھ- 26 مارچ 2019 ء

دارالافتاء

 

مسجد کا محراب توڑ کر نئے سرے سے تعمیر کرنے کا حکم، تنخواہ لینے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم اور اس وجہ سے جماعت چھوڑنے کا حکم


سوال

1: مسجد کی توسیع کے سبب پرانے محراب کو توڑ کر نیا محراب بنانا جائز ہے؟

2:  فی زمانہ تن خواہ لے کر نماز پڑھانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیے یا نہیں؟

3:  اور جو اس سبب جماعت کو ترک کر کے نماز پڑھے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

۱۔مسجد کی توسیع کی وجہ سے پرانا محراب توڑ کر اسے نئے سرے سے تعمیر کرنا جائز ہے۔

۲،۳۔فرض نماز پڑھانے  ( یعنی امامت کرنے) کی اجرت لینے کو متأخرینِ احناف نے بوجہ ضرورت جائز قرار دیا ہے، لیکن یہ اجرت اصل میں نماز  پڑھانے کی نہیں ہوتی، بلکہ ان کاموں کے لیے اپنے آپ کو محبوس  اور دیگر کاموں سے فارغ رکھ کر وقت دینے کی ہے، چناں چہ تنخواہ لینے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے اور اس وجہ سے جماعت ترک کرنے والے کو جماعت کے چھوڑنے کا گناہ ملے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 55 ):

"(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان.

(قوله: ولا لأجل الطاعات) الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لايجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله عليه الصلاة والسلام: «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به» وفي آخر ما عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم  إلى عمرو بن العاص: «وإن اتخذت مؤذناً فلا تأخذ على الأذان أجراً»؛ ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل ولهذا تتعين أهليته، فلايجوز له أخذ الأجرة من غيره كما في الصوم والصلاة، هداية. مطلب: تحرير مهم في عدم جواز الاستئجار على التلاوة والتهليل ونحوه مما لا ضرورة إليه.

(قوله: ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضاً في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201601


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں