بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 رمضان 1439ھ- 28 مئی 2018 ء

دارالافتاء

 

مسبوق نے امام کے ساتھ سلام پھیردیا


سوال

اگر کوئی مسبوق غلطی سے امام کے ساتھ ایک طرف یا دونوں طرف سلام پھیردے،تو کیا کرنا ہوگا؟

جواب

اگر مسبوق نے بھولے سے امام کے بعد ایک طرف یادونوں طرف سلام پھیر دیا  اورنماز کے منافی کوئی عمل نہیں کیا تواس کی نمازفاسد نہیں ہوئی، بلکہ اپنی نماز مکمل کرے اوردونوں صورتوں میں آخر میں سجدہ سہو بھی کرے۔ اور اگر مسبوق نے امام کے بالکل ساتھ  سہواً سلام پھیرا تو مسبوق پر سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143903200023


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں