بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 24 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

مسبل ازار کے پیچھے نماز


سوال

 کیا کسی ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی جس کا ٹخنہ چھپا ہوا ہو ، کیوں کہ اب بعض کے نزدیک شلوار اوپر چڑھانا یا پنٹ فولڈ کرنا جائز نہیں تو ان کے امام بھی اپنے پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں. اور اگر نہیں تو پھر اگر کبھی ایسی جگہ جہاں کوئی اور مسجد نہ ہو یا دور ہو، جماعت کے وقت کیا کرنا چاہیے؟  نماز پڑھ لی جائے؟  اور اگر نماز ایسے امام کے پیچھے پڑھی تو کیا دوہرانی پڑے گی؟

جواب

پائنچوں کا ٹخنوں سے نیچے  رکھنا مکروہِ تحریمی ہے۔جو امام اس حالت میں نماز پڑھا رہا ہو اس کی نماز بھی مکروہ ہے اور اس کی اقتدا بھی ۔ البتہ  اگر کسی نے اس کی اقتدا کی تو اس کو  اعادے کی ضرورت نہیں، اس لیے  کہ یہ کراہت نماز کی ماہیت وحقیقت میں سے نہیں ہے۔

            " عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: سمعتُ رسولَ اللّٰه صلی الله علیه وسلم یقولُ: مَنْ أَسْبَلَ ازَارَه فِيْ صَلاَتِه خُیَلاَءَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰه جَلَّ ذِکْرُه فِيْ حِلٍ وَلاَ حَرَامٍ"․ (ابوداوٴد، کتاب الصلاة، باب الإسبال في الصلاة، حدیث نمبر: ۶۳۷)

      "عَنْ أبي هرَیْرَة قال: بینما رجلٌ یصلي مُسْبِلاً إزارَه، إذْ قَالَ لَه رسولُ اللّٰه صلی الله علیه وسلم: اذْهبْ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، ثم قال: اذْهبْ فَتَوَضَّأَ، فَذَهبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَه رَجُلٌ: یارسولَ اللّٰه صلی الله علیه وسلم! مَا لَکَ أَمَرْتَه أنْ یَّتَوَضَّأَ؟ قال: إنَّه کَانَ یُصَلِّيْ وَهوَ مُسْبِلٌ إزَارَه، وَإنَّ اللّٰه جَلَّ ذِکْرُه لاَ یَقْبِلُ صَلاَةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إزَارَه".

          ترجمہ:  حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہونے کی حالت میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاوٴ، دوبارہ وضو کر کے آوٴ!تو وہ شخص وضو کر کے آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جاوٴ،وضو کر کے آوٴ! وہ شخص گیا اور وضو کر کے آیا، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہونے کی حالت میں نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتے ،جو اپنی ازار ٹخنوں کے نیچے لٹکائے ہوئے ہو۔(ابوداوٴد، کتاب الصلاۃ،  باب الاسبال فی الصلاۃ، حدیث نمبر: ۶۳۸)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 457):

"وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها.

(قوله: وكذا كل صلاة إلخ) ... إلا أن يدعي تخصيصها بأن مرادهم بالواجب والسنة التي تعاد بتركه ما كان من ماهية الصلاة وأجزائها، فلا يشمل الجماعة؛ لأنها وصف لها خارج عن ماهيتها " ... الخ

"وَاطَالَةُ الذَّیْلِ مَکْرُوْهةٌ عِنْدَ أبِيْ حَنِیْفَةَ وَالشَّافِعِيِّ فِي الصَّلاَةِ وَغَیْرِها"․ (مرقاة المفاتیح،باب الستر، الفصل الثانی ۲/۶۳۴، حدیث:۷۶۱)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201608

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں