بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مروجہ غیر سودی بینکوں سے معاملات کرنا


سوال

کیا میزان بینک کے اکاونٹس سے حاصل ہونے والا منافع بھی مشکوک ہے? آپ نے ایک جواب میں فرمایا ہے کہ مروجہ اسلامی بینکاری سودی  نظام سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

جواب

  مروجہ غیر سودی بینکوں  کا اگرچہ یہ دعویٰ ہے کہ وہ علماءِ کرام کی نگرانی میں  شرعی اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں (میزان بینک بھی ان ہی میں سے  ایک ہے) ،  لیکن ملک کے اکثر جید اور مقتدر علماءِ کرام  کی رائے یہ ہے کہ  ان  بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،  اور مروجہ غیر سودی بینک اور  روایتی بینک کےبہت سے  معاملات  تقریباً ایک جیسے ہیں، لہذا روایتی بینکوں کی طرح ان میں بھی سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے  ،اور اس سے حاصل ہونے والا نفع  حلال نہیں ہے۔(تفصیل کے لیے  ” مروجہ اسلامی بینکاری“  نامی کتاب کا مطالعہ کرلینا چاہیے)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200693

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے