بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی بینکنگ کا حکم


سوال

اسلامی بینکنگ کے بارےمیں کیا رائے ہے؟

جواب

ملک کے جمہور علمائے کرام اور مقتدر مفتیانِ کرام کی رائے کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات مکمل طور  پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے  مروجہ اسلامی بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا ، ان بینکوں سے گاڑی یا گھر وغیرہ خریدنا اور اس جیسے دوسرے معاملات کرنے سے اجتناب کرنا لازم ہے، البتہ کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی جیسے سودی بینکوں میں گنجائش ہے اسی طرح مروجہ اسلامی بینکوں میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے۔

مروجہ اسلامی بینکنگ کے بارے میں اگر تفصیلی بحث مطلوب ہو تو اس کے لیے ہماری کتاب ’’مروجہ اسلامی بینکاری‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200415

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے