بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مرد کا عورتوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کا حکم


سوال

اگر کوئی بالغ مرد نوجوان عورتوں کو قرآن مجید کی تعلیم دے تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی صورت کیا ہے؟

جواب

الحمد للہ ہمارے ملک میں تجوید کے ساتھ قرآنِ مجید پڑھی ہوئی بہت سی خواتین ہیں، اور اس غرض کے لیے علاقوں اور محلوں کی سطح پر مکاتب و مدارسِ دینیہ قائم ہیں، لہٰذا بالغ یا قریب البلوغ لڑکیوں کو باپردہ ماحول میں اپنے علاقوں میں خواتین معلمات سے ہی قرآنِ مجید پڑھنا چاہیے۔مرد اساتذہ کو فتنے کے مواقع سے بچ کر رہنا چاہیے۔

البتہ اگر کسی جگہ کوئی خاتون تجوید کے ساتھ پڑھانے والی نہ ہو یا کوئی اور مجبوری ہو اور معلم پسِ دیوار یا پسِ پردہ اس طور پر پڑھائے کہ طالبات کے ساتھ قطعاً اختلاط اور بے پردگی نہ ہو تو بوقتِ ضرورت اس کی گنجائش ہوگی۔ جہاں پردے کا اہتمام نہ ہو یا اختلاط کا اندیشہ ہو وہاں شرعاً اجازت نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200606

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے