بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کا قرض کیسے ادا کیا جائے جب کہ ترکہ کم چھوڑا ہو؟


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا، اس پر کئی سالوں کی نماز اور روزے ہیں اور کافی قرضہ بھی ہے، اور اس شخص نے وراثت میں بھی بہتتھوڑی سی رقم چھوڑی ہے۔اور ورثاء کو قرض دار ہینہیں معلوم۔اب ان کے ورثاء کیسے ان کا قرض اتاریںگے؟اور نماز اور روزوں کا کیا فدیہ ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اولاً میت کی دستاویزات وغیرہ دیکھ لی جائیں یا اس کے متعلقین سے معلوم کرلیا جائے، ممکن ہے قرض خواہوں کا اس سے علم ہوجائے، ثانیاً اعلانِ عام کردیا جائے کہ مرحوم کے ذمہ جس کا قرض ہو وہ وصول کرلے، لیکن مرحوم نے چوں کہ ترکہ بہت کم چھوڑا ہے جس سے تمام قرضوں کی ادائیگی ممکن نہیں؛ اس لیے جس قدر قرضہ ادا کرنا ممکن ہو وہ کل ترکہ سے ادا کر دیا جائے، اور اگر قرض خواہ زیادہ ہوں تو ہر قرض خواہ کو اس کے قرض کے تناسب سے ترکہ میں سے قرض ادا کر دیا جائے، کسی ایک قرض خواہ کو پورا قرضہ واپس کر دینا اور باقیوں کو کچھ نہ دینا درست نہیں۔

البتہ اگر ورثاء صاحبِ استطاعت ہوں اور قرضوں کی ادائیگی کر سکتے ہوں تو  مرحوم کا قرضہ اتار دینا مرحوم پر پر بڑا احسان ہو گا، لیکن ورثاء پر اس قرض کی ادائیگی لازم نہیں۔

اسی طرح اگر مرحوم نے نماز روزوں کے فدیہ کی وصیت نہیں کی تو ورثاء پر  فدیہ ادا کرنا بھی لازم نہیں، ہاں! اگر  ورثاء اپنی خوشی سے فدیہ خود ادا کر دیں تو امید ہے کہ وہ آخرت کی باز پرس سے محفوظ ہو جائیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں