بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مرحا / مرحیٰ نام رکھنا


سوال

میں اپنی بھتیجی کا نام "مرحا" رکھنا چاہتا  ہوں، کیا یہ نام رکھنا جائز ہے؟

 

جواب

"مَرحا"  عربی زبان کا لفظ ہے، اس کے تلفظ کے دو طریقے ہیں:

1۔  "مَرَ حا"را پر زبر کے ساتھ  اس کا مطلب ہے" تکبر کرنا"۔ اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

2۔ "مَرْحیٰ"(را ساکن)  عربی میں یہ لفظ کسی کو شاباش دینے کے لیے استعمال ہوتاہے، اسی طرح   خوشی سے جھومنا، اور چکی کا پاٹ بھی اس کے معنی ہیں، اس لیے اس اعتبار سے یہ نام رکھنا درست ہے۔

ناموں کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وصحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے، یا اچھا بامعنی عربی نام رکھا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200981

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے