بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1440ھ- 21 اپریل 2019 ء

دارالافتاء

 

مدرس کو شعبان اور رمضان کی تنخواہ ملنے کا ضابطہ


سوال

میں ایک ادارے میں پڑھاتاہوں، مہتمم صاحب نے چھٹیاں دیں اور ہمیں چھٹیوں کے بعدحاضری کا کہاگیا، جب ہم چھٹیوں کے بعد حاضر ہوئے تو ہمیں بتایاگیا کہ آپ کی جگہ نہیں رہی، جب کہ چھٹیوں سے پہلے اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی، ہم نے چھٹیوں کی تنخواہ کا تقاضا کیاتو تنخواہ دینے سے انکار کردیا اور کہا: کہیں بھی چھٹیوں کی تنخواہ نہیں  دی جاتی۔ برائے کرم آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ تنخواہ پر ہمارا حق ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر اس مدرسے کا اپنا کوئی آئین پہلے سے موجود ہے یا آپ کے اور مہتمم صاحب کے درمیان  تقرری کے وقت کوئی معاہدہ ہوا تھا تو شرعاً اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے، لیکن اگر مدرسے کا اپنا کوئی آئین نہیں  اور نہ تقرری کے وقت اس قسم کا کوئی معاہدہ ہوا  ہو تو عام مدارس کے عرف کے مطابق یہاں بھی فیصلہ کیا جائے گا، اور عام طور پر ہمارے یہاں مدارس کا عرف یہ ہے کہ جو مدرس شوال سے شعبان  تک تدریس کو جاری رکھے تو اسے ایامِ تعطیل یعنی شعبان اور رمضان کی تنخواہ بھی ملتی ہے چاہے اگلے سال اس مدرس کو رکھا جائے یا نہ رکھا جائے۔ لہٰذا اگر پہلے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا تو شعبان اور رمضان کی تنخواہ آپ کو ملنی  چاہیے ، یہ آپ کا حق ہے۔ (مستفاد از فتاویٰ مفتی محمود ، اجارہ کا بیان، ج:۹ ؍ ۳۵۱ ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں