بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

محمد نام رکھنے کا حکم اور اس کی فضیلت


سوال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نام (محمد) رکھنے سے مغفرت کی کوئی احادیث آ ئی ہےکہ جس نے محمد نام رکھا اس کی بخشش ہو جائے گی؟

جواب

آقا دو جہاں، سرورِ کونین ﷺ کا اسمِ گرامی زمین پر ”محمد“ اور آسمان پر ”احمد“ ہے، جس طرح رسولِ اکرم ﷺ کی ذات اَعلی، اَرفع اور ممتاز ہے ، ایسے ہی  آپ ﷺ کا نامِ نامی، اسم گرامی بھی اَعلی ، اَرفع اور ممتاز ہے، جیسے اللہ  تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذات کے لیے ساری مخلوق میں محبوبیت رکھ دی ہے، ایسے ہی آپ  ﷺ کے اسمِ گرامی کی  محبوبیت بھی  سب  کے  دلوں میں  پیدا فرمادی ہے، جیسے حضورﷺ کی ذات منبعِ فیوض و برکات ہے، ایسے ہی  اس پاک نام کی برکات کھلی آنکھوں نظر آتی ہیں، جیسے آپ ﷺ کی ذاتِ  بابرکات سے متعلق بے شمار  کتابیں تصنیف ہوئیں، ایسے ہی  فقط اسمِ گرامی  «محمد» کی عظمت  ومحبوبیت پر بھی مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں، ہمارے  محبوب ﷺ کی حیات کا تو ہر گوشہ  وپہلو بلکہ آپ ﷺ کے ساتھ جس چیز کا بھی  تعلق جڑا ، اللہ تعالیٰ نے اسے کائنات کے لیےمحبوب بنادیا، نامِ محمد بھی عاشقوں کی جان ہے اور وہ اس نام میں سرور وخوشی، لذت وشیرینی محسوس کرتے ہیں ، چناں چہ  جیسے سیرت اور اخلاق وکردارِ مصطفی ٰﷺ اَپنا کر بے شمار لوگوں نے دونوں جہانوں کی سعادتیں لوٹیں ، ایسے ہی اَن گنت عشاق نے  اسمِ گرامی سے والہانہ الفت ومحبت کی مثالیں قائم کیں، بہت سوں نے نامِ محمد سے الفت ومحبت کا اظہار بایں طور  کیا کہ ان کی نظروں میں نسل در نسل اپنی اولاد کے لیے سوائے اس پاک نام کے کوئی جچا ہی نہیں ، کسی کی چار پشتوں میں اور کسی کی سترہ نسلوں میں ایک ہی نام چمکتا دمکتا نظر آتا ہے، "بخاری شریف"  کی صحیح  روایت کے مطابق یہ نام خود اللہ تعالی نے رکھا ہے۔  اسی طرح  حضور ﷺ نے محمد نام رکھنے کی خود اجازت عطا فرمائی ہے۔ جیساکہ حدیث پاک میں ہے:

"سمّوا بإسمي، ولا تكنوا بكنيتي".(صحیح مسلم،(3/1682) کتاب الاداب، ط: دار احیاء التراث العربی)

یعنی میرے نام پر نام رکھو، البتہ میری کنیت اختیار نہ کرو۔ 

بلکہ  آپ ﷺ نے خود بھی کئی بچوں کا نام ”محمد“  رکھا ہے، یعنی رسول اللہﷺ کی خدمت میں جب  نومولود بچے لائے جاتے تھے  تو آپﷺ  تحنیک (گھٹی) کے بعد ان کا نام بھی تجویز فرماتے، چناں چہ ان میں سے کئی بچوں کانام آپ ﷺنے ”محمد“ رکھا۔  اسی طرح آپ ﷺ کا معمول تھا کہ نومسلموں میں سے بھی  اگر کسی کا نام صحیح نہ ہوتا  تو آپ ﷺ اس کا نام  تبدیل  فرمادیتے، چناں چہ کچھ صحابہ کا نام  آپ ﷺ نے خود تبدیل کرکے ”محمد“ رکھا۔

محمد بن خلیفہ، محمد مولی رسولﷺ، محمد بن طلحہ،  محمد بن نبیط، محمد بن عباس بن فضلۃ، محمد بن انس بن فضالۃالانصاری، محمد بن مخلد بن سحیم، محمد بن یفدیدویہ، محمد بن ہلال بن العلیٰ، محمد بن معمر، محمد بن ضمرۃبن الاسود، محمد بن عمارۃ  بن حزم، محمد بن ثابت، محمد بن عمرو بن حزم، یہ وہ صحابہ ہیں جن کا نام حضور اکرم  ﷺ  نے  ”محمد“ رکھا یا حضور ﷺ کے حکم سے ان کا نام ”محمد“ رکھا گیا ، بلکہ اپنی امت کو بھی آپ ﷺ نے ”محمد“نام رکھنے کی ترغیب دی، چناں چہ فرمایا:

"ما ضر أحدكم لو كان في بيته محمد ومحمدان وثلاثة".(فيض القدير(5/ 453) حرف المیم، ط:المکتبۃ التجاریہ الکبری ، مصر)

ترجمہ: تم میں سے کسی کا کیا نقصان ہے(یعنی کوئی نقصان نہیں ) اس بات میں کہ اس کے گھر میں ایک، دو یا تین محمد(نام والے) ہوں۔

کتابوں میں ”محمد“ نام رکھنے کے فضائل پر متعدد روایات نقل کی گئی ہیں ،  لیکن چوں کہ ان پر شدید جرح ہوئی ہے اور بعض روایات کو موضوع اور بعض کو کذب بھی لکھا گیا ہے؛ اس لیے یہاں صرف چند ایسی احادیث  ذکر کی جاتی ہیں  جو بعض محدثین کے یہاں صحیح ہیں، اس کے علاوہ  چند تابعین اور دیگر محققین علماء کے اقوال ذکر کیے جاتے ہیں ۔

1...سیرت کی مشہور کتاب ”سیرتِ حلبیہ“ میں بعض محدثین کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ”محمد“ نام کی فضیلت  میں جو احادیث ہیں ان میں  جو سب سے زیادہ صحیح ہونے کے قریب ہے وہ صرف یہ ہے کہ " جس شخص  کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور وہ میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام  سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس بچے کا نام ”محمد“ رکھے تو وہ شخص اور اس کا بچہ دونوں جنتی ہوں گے"۔

"قال بعض الحفاظ: وأصحها أي أقربها للصحة: «من ولد له مولود فسماه محمداً حباً لي وتبركاً باسمي كان هو ومولوده في الجنة»" .(السيرة الحلبية  (1/ 121) باب تسمیتہ ﷺ محمداً واحمد، ط: دارا لکتب العلمیہ)

2... اس سے ملتی جلتی  روایت ”العرف الشذی“(جوکہ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تقریرِ درسِ ترمذی ہے) میں بھی "معجم الطبرانی" کے حوالہ  سے نقل کی گئی ہے کہ" جس نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا ، میں اس کی شفاعت کروں گا"۔

" وفي رواية في المعجم للطبراني: «من سمى ولده محمداً، أنا شفيعه». وصحّحها أحد من المحدثين وضعّفه آخر". (العرف الشذي شرح سنن الترمذي (4/ 181) کتاب الآداب، باب ما جاء یستحب من الأسماء ، ط: دارإحیاء التراث العربي، بیروت)

3..."سیرتِ حلبیہ" میں ایک اور معضل روایت نقل کی گئی ہے  کہ "قیامت کے دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اےمحمد! اٹھیے اور بغیر حساب  کتاب کے جنت میں داخل ہوجائیے ، تو ہر وہ آدمی جس کا نام ”محمد“ ہوگا  یہ سمجھتے ہوئے کہ  یہ اسے کہا جارہا ہے  وہ (جنت میں جانے کے لیے) کھڑا ہوجائے گا تو حضرت محمدﷺ کے اِکرام میں انہیں جنت میں جانے سے نہیں روکا جائےگا"۔

"وفي حديث معضل: «إذا كان يوم القيامة نادى منادٍ: يا محمد! قم فادخل الجنة بغير حساب! فيقوم كل من اسمه محمد، يتوهم أن النداء له؛ فلكرامة محمد صلى الله عليه وسلم لا يمنعون»". (السيرة الحلبية  (1/ 121) باب تسمیتہ ﷺ محمداً واحمد، ط: دارا لکتب العلمیہ)

4... امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں  کہ "میں نے اہلِ مکہ سے سنا ہے کہ  جس گھر میں ”محمد“ نام والا ہو تو اس کی وجہ سے ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق دیا جاتا ہے"۔

"سمعت أهل مكة يقولون: ما من بيت فيه اسم محمد إلا نمى ورزقوا ورزق جيرانهم".(كتاب الشفاء، الباب الثالث، الفصل الاول،(1/176) ط: دارالفکر)

5...حدیث  شریف میں ”عبداللہ“ اور ”عبد الرحمن“ نام رکھنے کی ترغیب بھی آئی ہے، ان دو ناموں  کو اللہ کے نزدیک سب سے محبوب نام بتایا گیا ہے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس پر بحث کرتے ہوئے کہ اللہ کے ہاں سب سے محبوب نام کون سا ہے؟ علامہ مناوی  رحمہ اللہ کے حوالہ سے  لکھا ہے کہ ” عبد اللہ“ اور ”عبد الرحمن“ ناموں کا افضل ہونا ”عبد“ سے شروع ہونے والے ناموں کے اعتبار سے ہے؛  کیوں کہ عرب لوگ ” عبد شمس“ اور عبد دار“ وغیرہ نام رکھا کرتے تھے تو یہ حکم ہوا کہ  ” عبد اللہ“ اور ”عبد الرحمن“ نام رکھا کرو، اب یہ اس بات کے منافی نہیں ہے  کہ اللہ تعالیٰ کے  ہاں ناموں میں سے  سب سے محبوب نام ”محمد“ اور ”احمد“ ہیں ؛ کیوں کہ  اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کے لیے وہی نام پسند کیے  جو ان کے ہاں سب سے محبوب ہیں، اور گزشتہ سطور میں صحیح بخاری کے حوالے سے گزرا کہ آپ ﷺ کا نامِ نامی خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے منتخب فرمایا ۔

"قال المناوي : ... وتفضيل التسمية بهما محمول على من أراد التسمي بالعبودية؛ لأنهم كانوا يسمون عبد شمس وعبد الدار، فلا ينافي أن اسم محمد وأحمد أحب إلى الله تعالى من جميع الأسماء، فإنه لم يختر لنبيه إلا ما هو أحب إليه، هذا هو الصواب، ولا يجوز حمله على الإطلاق اهـ. وورد: «من ولد له مولود فسماه محمداً كان هو ومولوده في الجنة». رواه ابن عساكر عن أمامة رفعه قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن اهـ".(فتای شامی(6/ 417) کتاب الحظر والاباحۃ، ط: سعید)

اس لیے  اللہ تعالیٰ اولاد سے نوازیں  تو کم از کم ایک بیٹے  کا نام حبیبِ خدا ﷺ کے نام پر رکھنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202280

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے