بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1440ھ- 19 مارچ 2019 ء

دارالافتاء

 

ماہ واری بند ہونے کے بعد شوہر کے لیے ہم بستری کرنے کا حکم


سوال

اگر 4-5 ایام میں ماہ واری کا خون بند ہو جائے اور ہر ماہ کی یہی عادت ہے تو مباشرت جلد از جلد کب کی جاسکتی ہے؟

جواب

جس عورت کی ماہ واری کی عادت چار یا پانچ دن کی ہو اور جتنے دن عادت ہو اتنے دن ہی خون آیا اور پھر بند ہوگیا تو جب تک عورت غسل نہ کرلے  شوہر کے لیے اس سے صحبت کرنا درست نہیں ہے، ہاں اگر خون بند ہونے کے بعد غٖسل کرنے سے پہلے  ایک نماز کا وقت گزرگیا اور ایک نماز کی قضا اس کے ذمہ واجب ہوگئی تو  پھر شوہر کے لیے صحبت کرنا درست ہوگا، البتہ غسل میں تاخیر کرکے نماز قضا کرنا گناہ ہے اس سے بچنا ضروری ہے، لہذا عادت کے مطابق ماہ واری کا خون بند ہونے کے بعد صحبت کرنے کے لیے  عورت پہلے غسل کرلیا کرے۔

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 62):
"لا يحل" الوطء "إن انقطع" الحيض والنفاس عن المسلمة "لدونه" أي دون الأكثر ولو "لتمام عادتها" إلا بأحد ثلاثة أشياء: إما "أن تغتسل"؛ لأن زمان الغسل في الأقل محسوب من الحيض وبالغسل خلصت منه، وإذا انقطع لدون عادتها لا يقربها حتى تمضي عادتها؛ لأن عوده فيها غالب فلا أثر لغسلها قبل تمام عادتها، أو تتيمم" لعذر "وتصلي" على الأصح؛ ليتأكد التيمم لصلاة ولو نفلاً، بخلاف الغسل؛ فإنه لا يحتاج لمؤكد. والثالث ذكره بقوله: "أو تصير الصلاة ديناً في ذمتها، وذلك بأن تجد بعد الانقطاع "لتمام عادتها" من الوقت الذي انقطع الدم فيه زمناً يسع الغسل والتحريمة فما فوقهما، و" لكن "لم تغتسل" فيه "لم تتيمم حتى خرج الوقت" فبمجرد خروجه يحل وطؤها؛ لترتيب صلاة ذلك الوقت في ذمتها وهو حكم من أحكام الطهارات". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200349


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں