بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

لے پالک بچے کا خرچہ


سوال

اگر کسی کو اپنا بچہ پالنے کے لیے دیا جاۓ تو اس کے  خرچہ کے حوالے سے کیا حکم ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں  اگر بچے کی اپنی ملکیت میں مال نہ ہو تو پھر  اصل ذمہ داری بچہ کے حقیقی والد ہی کی ہے، اگر بچے کا مال ہو تو اس کے مال سے اس پر خرچ کیا جائے، لیکن اگر پالنے والا بخوشی یہ خرچہ برداشت کرے تو  بھی جائز ہے،

{لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله لايكلف الله نفساً إلا ما آتاها سيجعل الله بعد عسر يسراً} [ الطلاق : 7 ]

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 30):
"وأما نفقة الولد فلقوله تعالى: {والوالدات يرضعن أولادهن} [البقرة: 233] إلى قوله: {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن} [البقرة: 233] أي: رزق الوالدات المرضعات فإن كان المراد من الوالدات المرضعات المطلقات المنقضيات العدة؛ ففيها إيجاب نفقة الرضاع على المولود له وهو الأب لأجل الولد كما في قوله تعالى: {فإن أرضعن لكم فآتوهن أجورهن} [الطلاق: 6] وإن كان المراد من (هن) المنكوحات أو المطلقات المعتدات فإنما ذكر النفقة والكسوة في حال الرضاع وإن كانت المرأة تستوجب ذلك من غير ولد؛ لأنها تحتاج إلى فضل إطعام وفضل كسوة لمكان الرضاع".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 31):
"ولأن الإنفاق عند الحاجة من باب إحياء المنفق عليه والولد جزء الوالد وإحياء نفسه واجب كذا إحياء جزئه واعتبار هذا المعنى يوجب النفقة من الجانبين ولأن هذه القرابة مفترضة الوصل محرمة القطع بالإجماع والإنفاق من باب الصلة فكان واجباً وتركه مع القدرة للمنفق وتحقق حاجة المنفق عليه يؤدي إلى القطع فكان حراماً".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200639

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے