بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

لے پالک بچوں کے سرکاری دستاویزات میں بطور سرپرست اندارج


سوال

لے پالک کے حوالے سے مفتیانِ کرام فرماتے ہیں کہ اسے ولدیت نہیں دی جاسکتی، البتہ بطورِ سرپرست نام دیا جاسکتاہے، تو کیا ہمارے ہاں کوئی ایسا قانون موجود ہے کہ سرکاری کاغذات میں سر پرست کا خانہ جدا ہو اور ولدیت کا خانہ جدا ہو؟ پھر سرپرست کے طور پر اندراج کا کیا مطلب ہے؟

جواب

  شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولے بیٹے کی کوئی حیثیت نہیں ہے،  اور کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں،  البتہ گود میں لینے والے کو  پرورش ، تعلیم وتربیت  اور ادب واخلاق سکھانے کا ثواب ملے گا،  جاہلیت کے زمانہ  میں یہ دستور تھا کہ لوگ لے پالک اور منہ بولے اولاد کو حقیقی اولاد کا درجہ دیتے تھے ، لیکن اسلام نے اس تصور ورواج کو ختم کرکے یہ اعلان کردیا کہ منہ بولے  اولاد حقیقی اولاد نہیں ہوسکتے،   اور   لے پالک اور منہ بولے اولاد کو ان کے اصل والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے، جب رسولﷺ نے زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی ”متبنیٰ“ (منہ بولا بیٹا)   بنایا اور لوگ ان کو ”زید بن محمد“ پکارنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:

{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا } [الأحزاب: 4، 5]

ترجمہ: اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو (تو اس پر مؤاخذہ ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ (از بیان القرآن)

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد صحابہ کرام حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے والد کی طرف منسوب کرکے ”زید بن حارثہ“  کے نام سے پکارنے لگے، لہذا اس سے معلوم ہوا کہ  کسی  بچے کو گود لینے سے وہ حقیقی بیٹایا بیٹی نہیں بنتے، نہ ہی ان پر حقیقی بچوں والے احکامات جاری ہوتے ہیں۔

اس لیے  بچے کو گود لینے والا بطورِ والد اس بچے کے کاغذات (documents ) میں اپنا نام نہیں لکھ سکتا؛ کیوں کہ لے پالک بچے کو حقیقی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا  جائز نہیں ہے, چاہے حقیقی والد کا علم ہو یا نہ ہو، البتہ وہ شخص اس بچےکے کاغذات وغیرہ بناتے وقت اپنا نام ان کاغذات میں بطورِ سرپرست  (Guardian)  لکھوا سکتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں سرپرست (Guardian) کا خانہ موجود ہوتا ہے، نیز ہماری معلومات کے مطابق  ”نادارا“ کا بھی اس سلسلے میں قانون موجود ہے، اور اس کے لیے کچھ ضوابط ہیں، قانونی کاروائی کے بعد ایسے بچوں کے   سرکاری دستاویزات میں بھی سرپرست (Guardian)  کا اندارج کیا جاتا ہے، آپ متعلقہ اداروں سے تفصیلات معلوم کرلیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں