بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

لنڈے کے مال میں کارٹون نکل آنے کی صورت میں اسے بیچنے کا حکم


سوال

ہمارا کام پرانےلنڈے کا کاروبار ہے، جس میں مختلف قسم کی ورائٹی ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھی مال میں باہر ملک سے کارٹون بھی آجاتے ہیں، کیا ہم اس کارٹون کو بیچ سکتے ہیں یا نہیں؟ کارٹون ہمارا کاروبار نہیں، لیکن پیک بنڈل میں آجاتے ہیں۔

جواب

کارٹون  چوں کہ  جان دار کی تصویر پر مشتمل ہوتا ہے، بلکہ خود بعینہ  خالص تصویر/مجسمہ  ہی ہوتا ہے جو کہ حرام ہے اس لیے اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے،  اگر آپ کے مال میں کارٹون نکل آئے تو اس کو تلف کردیا کریں یا کم از کم اس کا سر کاٹ دیا کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200603

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے