بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قیامت کے روز لوگو ں کو کس نام سے اٹھایا جائے گا؟


سوال

قیامت کے روز لوگو ں کو کس نام سے اٹھایا جائے گا؟  لوگوں میں اختلاف ہے کہ قیامت کہ روز لوگوں کو ان کے ماں کے یا باپ کے  نام سے اٹھایا جائے گا؟

جواب

روزِ قیامت لوگوں کو ان کے والد ہی کے نام سے پکارا جائے گا۔

’’عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ اَبِي زَکَرِيَّا عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وسلم : إِنَّکُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِکُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِکُمْ؛ فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَ کُمْ‘‘.

ترجمہ: ’’حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تم اپنے ناموں اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤگے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھا کرو۔‘‘ (أحمد بن حنبل، المسند، 5: 194، رقم: 21739 .... سنن أبي داود، 4: 287، رقم: 4948)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث مبارک میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُـلَانِ بْنِ فُـلَانٍ‘‘.

ترجمہ: ’’عہد شکن کے لیے قیامت کے روز ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔‘‘ (بخاري، الصحيح، 5: 2285، رقم: 5823، دار ابن کثير اليمامة بيروت)

ابن بطال اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’وفي قوله: ’’هذه غدرة فلان بن فلان‘‘ ردّ لقول من زعم أنه لایدعی الناس یوم القیامة إلا بأمهاتم؛ لأن في ذلک ستراً علی آبائهم ...‘‘
ترجمہ: ’’رسول اللہﷺ کے اس فرمان: ’’هذه غدرة فلان بن فلان‘‘ میں ان لوگوں کے قول کاردّ ہے جن کاخیال ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی ماؤں ہی کے نام سے بلایا جائے گا، کیوں کہ اس میں ان کے باپوں پرپردہ پوشی ہے۔ ‘‘ 

البتہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کو چوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے بغیر والدکے حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے پیدافرمایاتھا؛ اس لیے انہیں والدہ کی جانب منسوب کرکے عیسیٰ بن مریم پکاراجائے گا،جیساکہ ان کا یہی اسمِ گرامی قرآن پاک میں بھی کئی مقامات پر مذکور ہے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام و اماں حواء کے لیے والدین کے نام کی ضرورت نہیں ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201159

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے