بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قعدہ اولیٰ میں انفرادی یا باجماعت  نماز میں بھول کردرود شریف پڑھ لینے پر سجدہ سہوہ کا حکم


سوال

قعدہ اولیٰ میں انفرادی یا باجماعت  نماز میں بھول کردرود شریف پڑھ لینے پر سجدہ سہوہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

سنتِ غیر موکدہ  اور نوافل کی ہر دو رکعت مستقل نماز ہوتی ہے، اگر چار رکعت سنتِ غیر مؤکدہ یا نوافل پڑھ رہے ہوں تو   اس میں افضل یہی ہے کہ  دوسری رکعت کے قعدہ کے بعد درود اور دعا پڑھیں، اور تیسری رکعت میں ثنا اور تعوذ وتسمیہ بھی پڑھیں، تاہم اگر دوسری رکعت کے قعدے میں التحیات کے بعد درود اور دعانہیں پڑھی یا تیسری رکعت کے شروع میں ثنا نہیں پڑھی تو بھی نماز ادا ہوجائے گی، اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں آئے گا، نیز کراہت بھی نہیں ہوگی۔

البتہ فرض نماز  انفراداً پڑھتے ہوئے یا امام نے قعدہ اولی میں درود پڑھ لیاتو سجدہ سہو  واجب ہوگا۔  اور جماعت کی نماز مٰیں مقتدی نے پڑھ لیا تو اس پر سجدہ سہو نہیں ۔

"و" إذاقام للشفع الثاني من الرباعية المؤكدة "لايأتي في" ابتداء "الثالثة بدعاء الاستفتاح" كما في فتح القدير، وهو الأصح كما في شرح المنية، لأنها لتأكدها أشبهت الفرائض فلاتبطل شفعته ولا خيار المحيرة ولايلزمه كمال المهر بالانتقال إلى الشفع الثاني منها لعدم صحة الخلوة بدخولها في الشفع الأول ثم أتم الأربع كما في صلاة الظهر "بخلاف" الرباعيات "المندوبة" فيستفتح ويتعوذ ويصلي على النبي صلى الله عليه وسلم في ابتداء كل شفع منها وقال في شرح المنية: مسألة الاستفتاح ونحوه ليست مرويةً عن المتقدمين من الأئمة وإنما هي اختيار بعض المتأخرين". ( كتاب الصلاة، فصل في بيان النوافل، ١/ ٣٩١، ٣٩٢)

تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے:

"وَلَا يُصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَعْدَةِ الْأُولَى فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَالْجُمُعَةِ وَبَعْدَهَا) وَلَوْ صَلَّى نَاسِيًا فَعَلَيْهِ السَّهْوُ، وَقِيلَ: لَا، شُمُنِّيٌّ (وَلَا يَسْتَفْتِحُ إذَا قَامَ إلَى الثَّالِثَةِ مِنْهَا) لِأَنَّهَا لِتَأَكُّدِهَا أَشْبَهَتْ الْفَرِيضَةَ (وَفِي الْبَوَاقِي مِنْ ذَوَاتِ الْأَرْبَعِ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَيَسْتَفْتِحُ) وَيَتَعَوَّذُ وَلَوْ نَذْرًا لِأَنَّ كُلَّ شَفْعٍ صَلَاةٌ (وَقِيلَ:) لَا يَأْتِي فِي الْكُلِّ وَصَحَّحَهُ فِي الْقُنْيَةِ".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201311

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے