بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

قرض کی وصولی کے لیے وکیل بالاجرت کا حکم


سوال

زید کا عمر پر تین لاکھ روپے قرضہ ہے، عمر نہیں دیتا، اور زید بکر کے ذریعے سے وہ تین لاکھ اس شرط پر وصول کروانا چاہتا ہے کہ آدھا بکر کا ہوگا، اس مسئلے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

یہ صورت ناجائز ہے۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 105):
"(المادة 563) لو خدم أحد آخر بناء على طلبه من دون مقاولة على أجرة فله أجر المثل إن كان ممن يخدم بالأجرة وإلا فلا".

مجلة الأحكام العدلية (ص: 285):
"المادة (1467): إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعاً. فليس له أن يطالب بالأجرة". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201519

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے