بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی پر بینک کے ٹیکس کا بھی مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص نےایک لاکھ روپیہ قرضہ مانگا قرض دینے والے نے کہا کہ دو دن میں پچاس پچاس ہزار آپ کو دوں گا تاکہ  بینک میں ٹیکس نہ کٹے قرض مانگنے والے نے کہا کہ مجھے فی الفور ایک لاکھ کی ضرورت ہے تو قرض دینے والے نے ایک لاکھ بینک سے ایک ساتھ نکلوائے جس پر چھ سو روپے قرض دینے والے کا ٹیکس کٹا اب قرض کی واپسی پر قرض دینے والاایک لاکھ چھ سو روپے کامطالبہ کرتا ہے تو کیا اسے اضافی چھ سو کے مطالبہ کا حق ہے ؟

جواب

چوں کہ قرض لینے والے نے ایک لاکھ روپے وصول کیے تھے؛ لہذا اس کے ذمہ ایک لاکھ روپے ہی ادا کرنا لازم ہے اور قرض دینے والا اضافی چھ سو روپے کا مطالبہ نہیں کرسکتا، یہ اضافی رقم اگر  مطالبے کے ساتھ وصول کی جائے تو سود کے حکم  میں ہوگی اور اضافی رقم کا لینا جائز نہیں ہوگا۔  تاہم اگر  قرض دیتے وقت اضافے کی شرط نہیں لگائی گئی اور مقروض  اپنی خوشی سے قرض کی ادئیگی کے وقت کچھ اضافہ کے ساتھ  قرض کی رقم لوٹائے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے