بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی کھال فلاحی مصرف میں صرف کرنا


سوال

قربانی کی کھال یا اس کی  رقم کسی فلاحی  مصرف میں استعمال کی جاسکتی ہے، مثلاً: ہسپتال یا مسجد کی تعمیر وغیرہ میں ؟

جواب

قربانی کی کھال جب تک  فروخت نہ کی جائے قربانی کرنے والے کو اس میں تین قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں:

(1) خود استعمال کرنا۔ (2) کسی کو ہدیہ کے طور پر دینا۔ (3) فقراء اور مساکین پر صدقہ کرنا۔

تاہم اگر قربانی کی کھال نقد رقم یا کسی چیز کے  عوض فروخت کردی گئی تو اس کی قیمت  صدقہ کرنا واجب ہے، اور کھال کی قیمت کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے، قربانی  کرنے والا جب اپنے جانور کی کھال کسی ادارے کو دیتا ہے تو اس ادارے کے نمائندے اس قربانی کرنے والے کے وکیل بن جاتے ہیں، اور  ان پر لازم ہے کہ وہ  اس کو فروخت کرکے قربانی کرنے  والے کی طرف سے  اس کھال کی قیمت کو مستحقِ زکاۃ لوگوں کو  دے دیں ، اس سے تعمیراتی کام کرانا جائز نہیں ہے، لہذا مساجد اور ہسپتال کی تعمیر کے لیے کھال دینا جائز نہیں ہے۔

''فتاوی شامی'' میں ہے:

'' (ويتصدق بجلدها أو يعمل منه نحو غربال وجراب) وقربة وسفرة ودلو (أو يبدله بما ينتفع به باقياً) كما مر (لا بمستهلك كخل ولحم ونحوه) كدراهم، (فإن) (بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم) (تصدق بثمنه)''۔ (6/328، کتاب الاضحیۃ، ط: سعید)

وفي الفتاوی البزازیة علی هامش الهندية:

'' وله أن یبیعها بالدراهم لیتصدق بها، لا أن ینتفع بالدراهم أو ینفقها علی نفسه ، فإن باع لذالك تصدق بالثمن''. (6/294، کتاب الاضحیۃ، ط: رشیدیہ)     

''فتاوی شامی'' میں ہے:

''وهو مصرف أيضاً لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة، كما في القهستاني'' ۔ (2/339، باب المصرف، ط:سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں