بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا جانور ذبح کرنے والے کا بال اور ناخن کاٹنا / قربانی کا نصاب


سوال

ایک دوست نے ایک محفل میں باتوں باتوں میں ایک مسئلہ پوچھا تو الگ الگ جواب ملے۔برائے مہربانی وضاحت کریں۔

1.میرے والد صاحب قربانی کرتے ہیں اور جانور کو ذبخ وغیرہ ہر سال میں ہی کرتا ہوں، کیا میرے لیے بھی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال اور ناخن کاٹنا جائز ہے یا قربانی کے بعد کاٹنے چاہییں؟

2.ایک بیان میں مولانا صاحب فرما رہے تھے کہ جس کے پاس عید کے دن ۳۰ سے ۴۰ ہزار نقد رقم موجود ہو اس پر قربانی کرنا واجب ہوتی ہے۔میرے پاس رقم تو موجود ہے، لیکن میرے والد صاحب نےمجھے قسطوں پر پلاٹ لے کر دیا ہےجس کی میں ہر ماہ قسط جمع کرتا ہوں اور شادی شدہ ہونے کے باوجود میں والدین کے زیرکفالت بھی ہوں، گھر کا سارا خرچ والدین ہی کرتے ہیں، میرے بچوں کی سکول فیس وغیرہ سب والدین ہی خرچ کرتے ہیں، میں اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا، اس صورت میں میرے اوپر قربانی واجب ہے یا نہیں برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

جواب

1۔۔جس آدمی پر قربانی واجب ہو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے ،اگر   آپ پر  قربانی واجب نہیں ہے آپ صرف والد صاحب کا جانور ذبح کرتے ہیں تو آپ کے لیے یہ عمل مستحب نہیں ہے، آپ اپنے بال ناخن وغیر کاٹ سکتے ہیں، تاہم اگر قربانی کرنے والوں کی مشابہت کرتے ہوئے آپ بھی بال ناخن نہ کاٹیں اور عام لوگوں کی قربانی کرنے کے بعد کاٹیں تو اللہ رب العزت سے امید ہے کہ وہ ثواب سے محروم نہیں کریں گے۔

اس مسئلہ کی مکمل تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ کریں :

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%86%D8%A7%D8%AE%D9%86-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%A7%D9%B9%D9%86%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%AA/13-08-2018

2۔۔ قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان  مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، ذمہ میں  واجب الادا اخراجات منہا کرنے کے بعد  ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو،  یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سےزائد اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

لہذ اصورتِ مسئولہ میں  اگر آپ کے پاس قربانی کے ایام (10، 11، 12 ذی الحجہ) میں قرض اور  قربانی کے ایام تک کےدیگر واجبات (مثلاً بچوں کی فیس، بجلی کا بل، گھر کا راشن وغیرہ) منہا کرنے کے بعد ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر نقد رقم ہے تو آپ پر قربانی واجب ہے۔ورنہ قربانی واجب نہیں ہے۔نیز پلاٹ اگر والد صاحب نے آپ کو ملکیتاً لے کر دیا ہے تو  قسط وار جو پلاٹ لیا ہے اس کی جو اقساط قربانی کے ایام تک واجب الادا ہوچکی ہیں صرف وہ نصاب سے منہا کی جائیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201825

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے