بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا جانوراگر بیوپاری کے پاس ہلاک ہوجائے


سوال

 قربانی کا جانور خرید کر اسے اسی شخص کے پاس رکھا کہ میں عید سے پہلے وصول کروں گا۔ اب وہ جانور اس آدمی کے پاس ہلاک ہو گیا، اس  کی کوتاہی سے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اسی کے پاس رکھوایا تو  جانور  اس کے پاس  امانت  تھا، اب اگر واقعۃً  اس کی کوتاہی سے ہلاک ہوا ہے تو اس کا تاوان اس کے ذمہ لازم ہے، ورنہ نہیں۔

رہی بات قربانی کی تو  اس کا حکم یہ ہے کہ اگر قربانی کرنے والا مال دار تھا یعنی اس پر قربانی واجب تھی تو اس کے ذمہ دوسرا جانور ذبح کرنا لازم ہے اور قربانی کے ایام گزرنے کی صورت میں صدقہ کرنا واجب ہے، اور اگر قربانی کرنے والا غریب تھا یعنی اس پر قربانی واجب نہیں تھی  تو اس کے ذمہ دوسرے جانور کی قربانی لازم نہیں۔

اگر واقعۃً بیوپاری کی کوتاہی یا زیادتی ثابت ہوجائے اور وہ تاوان ادا کرے تو  قربانی کرنے والے کے غریب ہونے کی صورت میں وہ رقم صدقہ کرنا واجب ہے، مال دار کے لیے لازم نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201069

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے